أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓ (1)
امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، مفسرین نے الٓمّٓ کے بارے میں کئ باتیں بیان کی ہیں۔ جس میں سے ایک یہ ہے، "کہ یہ متشابہات میں سے ہے، جس کے حقیقی معنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا" (تفسیر ابن جوزی)
سورۃ الفاتحہ میں کتاب کے مقصود کو بیان کیا گیا۔ جس کا معنی اِتنا ظاہر ہے بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن سورۃ البقرۃ کو ایسے حروف سے شروع کیا گیا، جس کے معنی کو سمجھنے سے بڑے علماء کی عقلیں بھی حیران ہیں۔ (نعیمی)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، "ہر کتاب کے کچھ راز ہوتے ہیں اور قرآن کے راز سورتوں کے شروع میں آنے والے الفاظ ہیں"۔ (تفسیر آلوسی و ابن جوزی)
اسی طرح امام طبری اور امام جلال الدین سیوطی نے داؤد ابن ہند سے روایت بیان کی۔ (طبری، در منصور)
اور قرآن حکیم میں ہے:
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔
اور اللہ کی شان نہیں، کہ اے لوگو! تمہیں غیب کا علم دے۔ ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے۔ تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر۔ اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری اختیار کرو، تو تمہارے لیے بڑا ثواب ہے۔ (آل عمران: 179)
اب ہم اپنے اصل موضوع ترتیبِ قرآن پر آتے ہیں..
تو یقینن آپ نےاس سے پہلے سورۃ الفاتحہ کو پڑھا۔ وہ جس میں سب سے پہلے اللہ کی شان بیان کی گئی۔ پھر اللہ کی رحمت کا ذکر ہوا اور اس کے بعد اس کی بڑائی بیان کی گئی۔ اب آپ سورۃ البقرۃ کی طرف آتے ہیں، تو اس کو الٓمّٓ سے شروع کیا گیا ہے۔ جس کے حقیقی معنی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن مفسرین نے اس کی کئ تاویلات بیان کی ہیں۔ جس میں سے ایک اقتباس مجھے سورۃ الفاتحہ سے منسلک ملا، جو پیشِ خدمت ہے۔
حضرت ابو العالیہ اور ربیع بن انس سے روایت ہے، "الف سے مراد اللہ ہے، لام سے مراد لطیف ہے اور میم سے مراد مجید ہے۔" (در منصور، طبری، ابن جوزی)
تشریح: پہلی آیت میں اللہ کی شان بیان ہوئی۔
لطیف : (بہت زیادہ لطف کرنے والا) لطف عام زبان میں ایک اندر سے ملنے والی خوشی ہے، جو اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔
مجید : بزرگ یعنی بڑائی والا تو وہ آخرت کے دن کا مالک ہے۔ جس دن سارے بادشاہوں کی بادشاہت ختم ہو جائے گی اور وہ بڑی شان سے فارمائیگا "آج کس کی بادشاہت ہے"۔
(سورۃ المومن : 16)
تو وہی اللہ عبادت کے لائق ہے۔
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ (2)
وو بلند رتبہ کتاب جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اس میں ڈرنے والے کے لیے ہدایت ہے۔
امام آلوسی بیان کرتے ہیں کہ سب سے انوکھی بات جو میں نے دیکھی کہ سورۃ الفاتحہ میں صراط مستقیم کی طرف اشارا ہے گویا کہ لوگو نے ہدایت کا سوال کیا تو ان سے کہا گیا کہ جس راستے کی طرف تم ہدایت کے طلبگار ہو وہ یہ کتابیعنی قرآنِ کریم ہے۔ (تفسیر آلوسی)
حضرت قتادہ مُتَّقِیْنَ کے بارے ميں فرماتے ہیں، وہ مومنین ہیں، جن کی تعریف اللہ نے اگلی آیت میں بیان کی۔ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ (تفسیر ابن کثیر و ابن ابی حاتم)
سورۃ الفاتحہ میں آگے تین قسم کے لوگوں کا ذکر ہے۔
(1) انعام یافتہ لوگ، جو متقین یعنی مومنین ہیں۔ اب سورۃ البقرۃ میں بیان ہوگا کہ انعام یافتہ لوگو کی کیا خوبیاں ہیں۔
الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ۔(3)
وو لوگ جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
ترتیب
حضرت قتادہ ھُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ کے بارے ميں فرماتے ہیں، اُن کی خوبی اور اُن کا وصف یہ ہے، الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ یعنی وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں الایة۔ (در منثور)
امام آلوسی، امام رازی، امام نسفی اور امام شوکانی نے بھی اس آیت کے بارے میں یہی بیان کیا کہ یہ متقین کے وصف ہیں۔
یعنی اس آیت میں متقین کی تفسیر ہے کہ متقین کون لوگ ہیں۔
حضرت ابن عباس غیب کے بارے ميں فرماتے ہیں، "جو اس یعنی اللہ کی طرف سے آیا"۔ (طبری)
اس سے واضح ہوا کہ غیب کا معنی اگلی آیت میں ہے۔
وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ. بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ (4)
اور وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو تم پر نازل کیا گیا۔ اور جو تم سے پہلے نازل کیا گیا اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعود اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، "الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ" یہ عرب کے مومنین ہیں۔
(وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ) الآية. یہ اہل کتاب کے مومنین ہیں۔ پھر اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ. انہیں دونوں کو جمع کیا۔ (در المنثور، فتح القدیر، ابن کثیر)
امام طبری فرماتے ہیں، کہ اہل عرب کے پاس اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں تھی۔ جو اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی۔ جس کی تصدیق کر کے وہ اس کا اقرار کرتے اور اس پر عمل کرتے۔ کتاب اہل کتاب کے پاس تھی۔ (طبری)
ایمان بالغیب کے بارے میں مفسرین کے دو قول ہیں۔ پہلا تو یہ کہ وہ اہل عرب کے مومنین ہیں۔ جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تھی اور اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ مثال، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین، دوسرا قول یہ کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والے وہ مومنین ہیں، جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آے اور انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔ اس قول کی حمایت میں مفسرین نے کئ روایت نقل کی ہیں۔ جو آپ تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہم یہاں صرف دو روایت اس قول کی تائید میں پیش کرینگے۔
ابن ابی شیبہ نے عوف بن مالک سے تخریج کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کاش میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرتا" انہوں نے (صحابہ) کہا، "کیا ہم آپ کے بھائی اور اصحاب نہیں" فرمایا، "کیوں نہیں، لیکن تمہارے بعد ایک قوم آئیگی جو مجھ پر تمہاری طرح ایمان لائے گی، میری تمہاری طرح تصدیق کرے گی۔ تمہاری طرح میری مدد کرے گی۔ کاش! میں اپنے ان بھائیوں سے ملاقات کرتا" (در المنصور)
ابن عساکر نے حضرت انس سے تخریج کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "کاش! میں اپنے بھائیوں سے ملتا" تو صحابہ کرام میں سے ایک شخص نے کہا "کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں" فرمایا، "کیوں نہیں، تم میرے صحابی ہو اور میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور مجھ پر ایمان لے آئیں گے، حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا۔ پھر تلاوت کی "الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ" (در المنثور)
اسی سے ملتی جلتی کئ روایات مختلفر تفاسیر میں ابن کثیر، امام ابن جوزی اور امام جلال الدین سیوطی نے در المنثور میں کئ طرق سے بیان کی۔
اس روایت کو میں نے اس لیے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تلاوت فرمائی ۔
یہ ایمان بالغیب کے بارے میں مفسرین کے اقوال ہیں۔ اوپر کی روایت میں عرب کے مومنین کا ذکر ہے۔ جس سے واضح ہوا کہ اس میں وہ سب لوگ شامل ہیں، جن پر اللہ کی طرف سے کچھ نازل نہیں ہوا اور وہ اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔
اللہ رب العزت نے اگے فرمایا۔
اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (5)
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ کے بارے میں فرمایا یعنی اپنے رب کی طرف سے نور اور جو اُن کی طرف (قرآن) آیا اس کی استقامت پر ہیں۔ (تفسیر ابن ابی حاتم، ابن جوزی، ابن کثیر، طبری)
استقامت یعنی کسی چیز پر جم جانا اور اس سے نہ ہٹنا، جس طرح سورۃ الفاتحہ میں بھی صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی دعا کی گئی ہے۔ تو یہاں یہ واضح ہو گیا کہ اس سیدھی راہ پر کون لوگ قائم ہیں۔
امام طبری اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں۔ "اس سے پتہ چلا کہ یہ لوگ خاص اہل ہدایت اور فلاح (کامیابی) سے ہیں نہ کہ ان کے علاوہ بلکہ ان کے علاوہ جو لوگ ہیں وہ گمراہی اور نقصان والے ہیں۔" (طبری)
آگے فرمایا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ یعنی یہ لوگ کامیاب ہیں اور کامیابی کے بعد ہی انعام ملتا ہے۔ تو سورۃ الفاتحہ میں جن انعام یافتہ لوگو کا ذکر تھا، یہ اس کی تفسیر تھی۔ اس کے بعد غضب یافتہ لوگوں کا ذکر ہے۔ جس کی وضاحت اس سے اگلی آیت میں ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (6)
بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، ان کے لئے برابر ہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں۔ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
جب اپنے اولیاء کا ذکر ان خوبیوں سے کر دیا، جو اس کی طرف قریب کرنے والی ہیں۔ اور یہ بیان فرما دیا کہ کتاب ان کے لئے ہدایت ہے، تو اس کے بعد ان کے مخالفین کا ذکر کیا اور وہ سرکش دھتکارے ہوئے وہ لوگ ہیں، جن کو ہدایت فائده نہیں دیگی۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے فرماتے ہیں، عرض کیا گیا، یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم قرآن پڑھتے ہیں تو ہمیں بہت امید ہو جاتی ہے۔ اور کبھی ہم قرآن پڑھتے ہیں، تو قریب ہوتا ہے کہ ہم مایوس ہو جائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تم کو جنت والوں اور جہنم والوں کی خبر نہ دوں؟ عرض کی، کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم تو حضور نے الٓمّٓ سے الْمُفْلِحُوْنَ تک پڑھا اور فرمایا یہ جنتی ہیں۔ صحابہ نے کہا ہم اس کی امید لگاتے ہیں کہ ہم ان میں سے ہوں۔ پھر فرمایا اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے عَظِیْمٌ تک یہ جہنمی ہیں۔ تو ہم نے کہا، ہم ان میں سے نہیں ہیں یا رسول اللہ! صلی الله عليه وسلم تو فرمایا، ہاں۔ (تفسیر ابن ابی حاتم، در المنصور)
حضرت ابن اسحاق، ابن جریج اور ابن ابی حاتم نی حضرت ابن عباس سے تخریج کی۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ جو لوگ کفر کرتے ہیں"
جنہوں نے کفر کیا یعنی بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ جو آپ پر نازل ہوا اگرچہ وہ کہیں کہ جو اس سے پہلے آیا ہم اس پر ایمان لائے ہیں۔ ان پر برابر ہے تم اُن کو ڈراؤ یا نہ دڑاؤ وہ ایمان لانے والے نہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو آپ کا ان کے پاس ذکر ہے اس کا انکار کیا اور اسے تو گویا انہوں نے جو چیز آپ لے کر آئے ہیں اس کو جھٹلا دیا اور اس کو جو ان کے پاس ہے جس کو آپ کے علاوہ دوسرے انبیاء لے کر آئے تو وہ آپ کی جانب سے ڈرانا کہاں سنیں گے جبکہ وہ کفر کر چکے اس سے جو ان کے پاس آپ کے بارے ميں علم ہے۔
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘
تو ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردے ہیں یعنی ہدایت سے، کہ وہ اس ہدایت کو کبھی بھی نہیں پہنچیں گے بغیر اس حق کے، جس کو آپ لائے ہیں اور اس کی وجہ سے یہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس پر ایمان لائیں اگرچہ آپ سے پہلے جو کچھ ہے اس سب پر ایمان لے آئیں اور ان کے لیے جو انہوں نے آپ کے خلاف کیا، عزاب عظیم ہے اور یہ علماء یہود کے بارے ميں ہے۔ (در المنصور، ابن کثیر)
تفسیر ابن ابی حاتم اور فتح القدیر میں بھی اس روایت کا کچھ حصہ بیان کیا۔
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (7)
امام مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، "خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ۔ مجھے خبر دی گئی کہ گناہ دل پر ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ اس کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں یہاں تک کہ اس پر چپٹ جاتے ہیں اور ان کا اُس پر چپٹ جانا یہی الطبع ہے اور اسی الطبع کو ختم یعنی مہر کہتے ہیں۔ (طبری، ابن ابی حاتم)
اس آیت کے بارے میں حضرت قتادہ نے فرمایا، "شیطان ان پر غالب آگیا جب انہوں نے اس کی اطاعت کی تو اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کر دی تو وہ نہ ہدایت کو دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں"۔ (فتح القدیر، ، ابن ابی حاتم)
Wednesday, 26 April 2023
ترتیب آیات سورۃ البقرہ رکوع :ا
Subscribe to:
Comments (Atom)