Sunday, 20 August 2023

Surat ul baqarah Ruku :4






 

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 



وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(30)


اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے .


اللہ تعالی نے تیسری نعمت کا ذکر فرمایا جو تمام لوگوں کے لئے عام ہے اور وہ تخلیق آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی عزت اور ملائکہ پر ان کی یہ فضیلت کہ اللہ نے ان کو آدم علیہ السلام کو سجدہ کا حکم دیا اور باپ پر انعام تمام اولاد کے لئے عام ہوتا ہے. (بیضاوی) 


امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت ابو العالیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں اللہ تعالی نے فرشتوں کو بدھ کے روز پیدا فرمایا اور جنوں کو جمعرات کو پیدا فرمایا اور آدم کو جمعہ کے دن پیدا فرمایا، پس جنوں کی ایک قوم نے کفر کیا پس فرشتے ان کی طرف زمین پر آئے اور ان سے جنگ کی زمین پر اس وقت فساد اور خون ریزی تھی ۔ اسی وجہ سے فرشتوں نے کہا کیا تو اسے خلیفہ مقرر کرتا ہے جو زمین میں فساد برپا کرے گا (در منثور، طبری، ابن کثیر، ابن ابی حاتم) 

امام مسلم ، ابو داؤد، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہتر دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی اسی دن وہ جنت میں داخل کئے گئے، اسی دن جنت سے نیچے اتار لئے گئے ، اسی دن ان کا وصال ہوا اور اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہوگی. (سنن ابو داؤد) 



حضرت قتادہ (اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یہ خدا کے علم میں تھا کہ اس خلیفہ سے  رسول، انبیاء، صالحین اور جنت میں رہنے والے لوگ  ہوں گے۔ ( فتح القدیر،  ابن کثیر، ابن ابی حاتم، طبری، آلوسی) 



وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـٴُـوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(31)

اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھا دیے پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کر کے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔



 جب ملائکہ نے تخلیق آدم، ان کی اولاد اور انہیں زمین پر ٹھہرانے کی حکمت پوچھی تو اللہ تعالیٰ نے  أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ) سے مختصر طور پر حکمت بیان فرمائی اب اس کی تفصیل ہے. یہاں حضرت آدم علیہ السلام کی ایسی فضیلت بیان کی جو فرشتوں کو معلوم نہ تھی۔ اس طرح  کہ حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اسماء کی تعلیم دی پھر ملائکہ سے سوال کیا تاکہ ان پہ حضرت آدم علیہ السلام  کا علم میں فضل اور ملائکہ کی علم میں کمی ظاہر ہو جائے۔(کبیر) 

امام مجاھد فرماتے ہیں انہیں تمام جانوروں، تمام پرندوں اور تمام چیزوں کے نام سکھا دئے. (ابن ابی حاتم، ابن کثیر) 

اس روایت کا کچھ حصہ امام طبری نے بھی  بیان کیا. 

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آپ پر آپ کی اولاد کے نام، انسان کے نام اور جانوروں کے نام پیش کئے گئے تو کہا گیا یہ اونٹ ہے یہ گدھا ہے یہ گھوڑا ہے. 

(فتح القدیر، ابن ابی حاتم، در منثور، ابن کثیر) 


علامہ آلوسی فرماتے ہیں  میرے نزدیک اس سے مراد فرشتوں کے عجز کو ظاہر کرنا ہے اور خلافت ظاہری اور باطنی کے معاملے میں ان کی صلاحیتوں کے قصور کو دکھانا ہے، ان کو حکم دیا گیا کہ ان ناموں کے بارے میں بتا دیں کہ ان سے کیا مراد ہے تو جو صرف نام بتانے سے عاجز ہوگا وہ اس شئ مطلوب کو اچھے طریقے سے آراستہ کرنے سے بدرجہ اولیٰ عاجز ہوگا. (تفسیر آلوسی)


قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(32)


۔(فرشتوں نے کہا: (اے اللہ !) پاکی ہے تجھے ۔ ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم والا، حکمت والا ہے۔

فرشتوں نے یہ کہہ کر اپنے عجز کا اقرار کر لیا اور یہ ظاہر کر دیا کہ ان کا سوال کرنا صرف استفسار تھا نہ کہ خلافت آدم علیہ السلام پر اعتراض، نیز اللہ کریم نے خلیفہ بنانے کی حکمت کو بھی واضح کر دیا اور حضرت آدم علیہ السلام کے کمال اور فضیلت کو واضح کر دیا اور فرشتوں نے اس نعمت کا شکریہ ادا کرنے اور ادب کی مراعات کا خیال کرتے ہوئے تمام علوم کو اللہ کریم کے سپرد کر دیا۔(بیضاوی) 


ابن عباس فرماتے ہیں سبحان اللہ کے معنی اللہ تعالی کی پاکیزگی کے ہیں کہ وہ ہر برائی سے منزہ ہے۔ حضرت عمر نے حضرت علی اور اپنے پاس کے دوسرے اصحاب سے ایک مرتبہ سوال کیا کہ آیت (لا الہ الا اللہ) تو ہم جانتے ہیں لیکن دعا (سبحان اللہ) کیا کلمہ ہے ؟ تو حضرت علی نے جواب دیا کہ اس کلمہ کو باری تعالی نے اپنے کے لئے پسند فرمایا ہے اور اس سے وہ خوش ہوتا ہے اور اس کا کہنا اسے محبوب ہے۔(ابن ابی حاتم، ابن کثیر) 


گو یا ملائکہ نے کہا تو تمام معلومات کا عالم ہے تیرے لیے تعلیم آدم ممکن ہے اور تیرا ہر فعل سراپا حکمت و درست ہے۔

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ملائکہ کی حکیم سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے اپنی حکمت سے آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنایا ہے۔(کبیر) 


قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(33)



فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتا دئیے فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ۔


حضرت زید بن اسلم سے مروی ہے "انہوں نے (آدم علیہ السلام) نے فرمایا آپ جبریل ہیں، آپ میکائیل ہیں، آپ اسرافیل ہیں، (علیہم الصلوۃ والسلام) حتی کہ سارے نام  گنا دئے یہاں تک کہ کوّے تک پہنچے. (ابن ابی حاتم، ابن کثیر) 


 یہاں اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے تا کہ اس پر دلیل قائم ہو جائے کہ اللہ کریم جب زمین و آسمان کے ان تمام امور کو جانتا ہے جو ان پر مخفی تھے اور وہ انہیں بھی جانتا ہے جو ان کے ظاہر اور باطنی حالات ہیں لہذا وہ ہر اس چیز سے آگاہ ہو گا جسے وہ نہیں جانتے ہیں۔ (بیضاوی) 


   فرشتوں نے کیا ظاہر کیا؟؟ 

اس بارے میں یہ کہا گیا ہے " کیا تو ایسے کو خلیفہ کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے." (بیضاوی) 

     جس طرح اوپر کی آیات میں ذکر کیا گیا. 


امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے حضرت مہدی بن میمون رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے سنا ہے، حسن بن دینار نے ان سے پوچھا اے ابو سعید اللہ تعالی نے جو فرشتوں سے( وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَ ما كنتم تكتمون) فرمایا ہے اس کا کیا مطلب ہے ملائکہ نے کون سی بات چھپائی ہوئی تھی، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور فرشتوں نے ایک عجیب مخلوق دیکھی تو ان کے ذہنوں میں کچھ خیال آیا وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے۔ بعض نے کہا تم اس مخلوق کے متعلق اتنے کیوں پریشان ہو؟اللہ تعالیٰ ہم سے کوئی معزز مخلوق پیدا نہیں فرمائے گا۔ یہی بات تھی جو انہوں نے چھپا رکھی تھی (در منثور، طبری) 

اس روایت کو علامہ آلوسی، قرطبی، ابن کثیر، ابن جوزی، ابن ابی حاتم نے  الگ الگ طرق سے بیان کیا.

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(34)


اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافر ہوگیا۔


یہ تمام انسانوں پر ہونے والے انعامات میں چوتھی نعمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالی نے ہمارے باپ کو مسجود ملائکہ بنادیا ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی خلافت کیلئے تخصیص فرمائی پھر انہیں علم کثیر دیا پھر اتنا علم کہ ملائکہ ان کے درجہ علم کے سامنے عاجز آگئے اور اب ان کا مسجود ملائکہ ہونا بیان ہو رہا ہے۔(کبیر)


 امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہاسے اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ کی یہ تفسیر نقل فرمائی ہے کہ سجدہ آدم علیہ السلام کے لئے تھا اور اطاعت اللہ کے لئے تھی ۔ (در منثور، فتح القدیر) 

ابن کثیر اور امام  طبری نے اسی کے مثل  روایت کو حضرت قتادہ سے بیان کیا. 

ابن اسحاق نے المبتدا میں، ابن جریر اور ابن الانباری نے ابن عباس سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں ابلیس معصیت پر سوار ہونے سے پہلے فرشتوں میں سے تھا اور اس کا نام عزازیل تھا اور یہ زمین کے رہنے والوں میں سےتھا وہ فرشتوں میں سب سے زیادہ مجتہد اور سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا، اس وجہ سے اس میں تکبر پیدا ہوا اور یہ فرشتوں کے اس قبیلہ سے تھا جنہیں جن کہا جاتا تھا. (در منثور،طبری، ابن کثیر، فتح القدیر) 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے "فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا اور جنات کو نار یعنی آگ کے شعلے سے. (صحیح مسلم) 

۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے" اللہ کے دشمن ابلیس نے آدم علیہ السلام سے حسد کیا جو  شرف اللہ تعالیٰ نےآپ کو بخشا تھا اور کہا میں ناری(اگ سے بنا) ہوں اور یہ طینی (مٹی کا بنا ہوا) ہے گناہ کا آغاز تکبر سے ہوا اللہ کے دشمن نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے تکبر کیا. ( ابن ابی حاتم، ابن کثیر، در المنثور ) 


وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(35) 


اور ہم نے فرمایا اے آدم تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا دل چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے ۔


حضرت ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جس درخت سے آزمایا تھا اس سے قبل فرشتوں کو بھی آزمایا گیا تھا اور ہر مخلوق کو آزمائش میں ڈالا  اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کو اپنی اطاعت سے آزماتا ہے پس آدم علیہ السلام پر آزمائش جاری رہی حتی کہ آپ سے ممنوع امر کا ارتکاب وقوع پذیر ہو گیا. (طبری، در المنثور) 

      

امام قرطبی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول أُسكُنْ میں خروج کی تنبیہ ہے، بعض عارفین نے لکھا ہے کہ سکونت ایک مدت تک ہوتی ہے اس کے بعد ختم ہو جاتی ہے. تو آپ علیہ السلام کا جنت میں دخول سکونت والا دخول تھا اقامت یعنی رہنے والا نہیں. (قرطبی) 


 امام عبد بن حمید، حاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں آدم علیہ السلام جنت میں نماز عصر کے وقت سے غروب شمس تک کے وقت کی مقدار ٹھہرے رہے (در المنثور ،فتح القدیر) 

   شیخین کی شرط پر یہ حدیث صحیح ہے. 


  اس جگہ کونسا درخت مراد ہے اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، بعض کے نزدیک گندم، انگور کی بیل، انجیر یا کوئی ایسا درخت ہے جس سے کوئی کھائے تو اسے حدث لاحق ہو جاتا ہے۔ امام بیضاوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ چونکہ اس پر کوئی قطعی دلیل موجود نہیں کہ کونسا درخت مراد ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ اسے معین نہ کیا جائے ، جس طرح آیت کریمہ میں اس کی تعیین نہیں کی گئی، کیونکہ اس پر مقصود موقوف نہیں. (بیضاوی) 


امام ابن ابی حاتم، ابن حبان طبرانی حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابوامامہ الباھلی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ فرمایا ہاں ان سے اللہ نے کلام فرمایا تھا. پوچھا آدم اور نوح کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ فرمایا دس صدیاں۔ پھر پوچھا نوح اور ابراہیم کے درمیان کتنی مدت تھی؟ فرمایا دس صدیاں ۔ پھر پوچھا یا رسول اللہ انبیاء کتنے تھے؟ فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار، پھر پوچھا یا رسول اللہ ان میں سے رسول کتنے تھے؟ فرمایا تین سو پندرہ کا جم غفیر تھا (در المنثور ،فتح القدیر) 


فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(36)

تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا اور ہم نے فرمایا نیچے اترو تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہونگے اور تمہیں زمین میں ٹھہرنا اور ایک وقت تک برتنا ہے ۔


امام ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود اور دوسرے صحابہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے فرمایا اسكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ( البقرہ: 35 ) تو ابلیس نے آدم و حوا کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔ وہ ایک سانپ کے پاس آیا جو ایک چار ٹانگوں والا اونٹ کی مانند بڑا جانور تھا اور یہ تمام جانوروں سے خوبصورت تھا، پس ابلیس نے سانپ سے کہا کہ وہ اسے اپنے منہ میں لے جائے حتی کہ وہ اسے آدم تک پہنچا دے، پس سانپ نے اسے اپنے منہ میں داخل کیا اور پھر وہ سانپ جنت کے داروغوں کے پاس سے گزر گیا اور جنت میں داخل ہو گیا۔ فرشتوں کو معلوم نہیں تھا جو اللہ نے ارادہ فرمایا تھا۔ پس شیطان نے سانپ کے منہ سے بات کی اور اس کے کلام کی پرواہ نہ کی گئی۔ پس ابلیس آدم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور کہا "اے آدم کیا میں تیری راہنمائی ہمیشہ کے درخت پر نہ کروں اور ایسی بادشاہی پر جو کبھی بوسیدہ نہ ہوگی" (طہ :١٢٠)۔ اور اس نے ان کے سامنے قسم اٹھائ کہ "میں تمہارا مخلص ہوں،"(الاعراف :21) آدم علیہ السلام نے وہ درخت کھانے سے انکار کر دیا۔ حضرت حواء بیٹھ گئی اور وہ دانہ کھالیا پھر انھوں نے آدم علیہ السلام سے کہا اے آدم کھالیں میں نے کھایا ہے تو مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچی ہے پس جب آدم علیہ السلام نے کھایا "تو دونوں کی شرم کی چیزیں ظاہر ہو گئیں اور دونوں نے جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کر دیا" (الاعراف :22)(در المنثور، فتح القدیر، طبری) 


فأخرجهما مما كانا فيه (تو وہاں سے انھیں الگ کر دیا) یعنی جس جنت اور کرامت میں وہ رہتے تھے۔(بیضاوی) 

 

وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا (اور ہم نے کہا اترو) 

امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس ارشاد کے متعلق روایت فرمایا ہے کہ اس سے مراد آدم، حواء ، ابلیس اور سانپ ہیں جنہیں اترنے کا حکم ملا تھا اور( تمہیں زمین میں ٹھرنا ہے) سے مراد یہ ہے کہ تم نے قبور میں ٹھہرنا ہے اور (ایک وقت تک برتنا ہے ) سے مراد یہ ہے کہ زندگی تک تمہیں فائدہ اٹھانا ہے (در المنثور، فتح القدیر، طبری، ابن الجوزی) 


امام نسفی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں

وَقُلْنَا اهْبِطُوا : (ہم نے کہا تم اترو) الهبوط کا معنی زمین کی طرف اترنا ہے۔ خطاب آدم، حواء اور ابلیس سب کو ہے بعض نے کہا سانپ کو بھی۔ صحیح یہ ہے کہ آدم و حواء کو۔ مراد یہ دونوں اور ان کی اولاد کیونکہ وہ دونوں کل انسان تھے تو گویا وہ ساری جنس انسان تھی ۔ اس کی دلیل سورۃ طہ کی یہ آیت ہے :تم دونوں اکٹھے جنت سے اتر جاؤ، تمہارے بعض بعض کے دشمن ہوں گے (طہ:١٢٣) (مدارک) 


امام قرطبی فرماتے ہیں مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ (ایک وقت تک برتنا ہے) میں حضرت آدم علیہ السلام کو خوشخبری ہے کہ وہ جان لیں کہ وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہیں گے بلکہ وہ جنت کی طرف منتقل کئے جائینگے جسکی طرف پلٹنے کا وعدہ کیا گیا ہے اور آدم علیہ السلام کے غیر کے لئے یہ آیت بس آخرت پر دلالت کرتی ہے (قرطبی) 


 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کا باہم مناظرہ ہوا تو آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے ، موسیٰ علیہ السلام نے کہا اپ آدم ہی ہیں جنہوں نے لوگوں کو اغواء کیا اور انہیں جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا تم ہی موسیٰ ہو جنہیں  اللہ تعالی نے ہر نعمت عطا فرمائی اور اپنی رسالت کے لئے منتخب فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ہاں (میں ہی وہ موسیٰ ہوں ) آدم علیہ السلام نے فرمایا تم مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتےہو جو میری پیدائش سے پہلے مقدر ہو چکا تھا (بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائ، ابن ماجہ) 


فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمَٰةٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ

التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (37)


پھر آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لئے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کی۔ بیشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔


حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل ہے سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کیا یا رب کیا تو نے بلا واسطہ اپنے دست اقدس سے مجھے پیدا نہیں فرمایا؟ فرمایا کیوں نہیں ، عرض کیا یا رب، کیا تو نے میرے اندر اپنی روح نہیں پھونکی ؟ فرمایا کیوں نہیں ۔ عرض کیا: کیا تو نے مجھے جنت میں نہیں ٹھہرایا؟ فرمایا کیوں نہیں ۔ عرض کیا، کیا تیری رحمت تیرے غضب پر غالب نہیں ؟ فرمایا: کیوں نہیں ۔ عرض کیا: یا رب اگر میں توبہ کر کے اصلاح کرلوں تو کیا مجھے دوبارہ جنت مل جائے گی ؟ فرمایا: ہاں امام سدی نے یہ الفاظ زیادہ  نقل کئے ہیں یا رب کیا تو نے مجھ پر یہ خطا نہیں لکھی تھا؟ فرمایا ہاں۔(کبیر) 

امام سدی کی روایت کو ابن ابی حاتم، ابن کثیر، طبری نے ذکر کیا. 


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کلمات سے مراد ربنا ظلمنا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَاوَ تَرْحَمنا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ.(الاعراف :٢٣)

دونوں نے عرض کی: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو نے ہماری مغفرت نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ضرور ہم نقصان والوں میں سے ہوجائیں گے۔(در المنثور ،فتح القدیر، ابن الجوزی، آلوسی) 


     آپکی یہ دعا قرآن کریم سے ثابت ہے اس باب میں مفسرین  نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دیگر اصحاب سے کئی روایات کا ذکر کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام  کی توبہ ان کلمات سے قبول ہوئی پھر آپ نے اپنی خطا کو یاد کرکے الگ الگ طریقہ سے دعا کی جس میں سے ایک دعا ذیل ہے:

امام طبرانی نے معجم الصغیر میں، حاکم، ابو نعیم اور بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی انہوں نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کی  اللہ میں تجھ سے محمد کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری مغفرت فرما. اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی اور پوچھا محمد کون ہے؟ آدم علیہ السلام نے عرض کی تیرا اسم بڑا بابرکت ہے جب تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں نے اپنا سر عرش کی طرف اٹھایا تو اس پر لا اله الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ لکھا ہوا تھا پس مجھے معلوم ہو گیا کہ اس ذات سے معزز تیری بارگاہ میں اور کوئی نہیں ہے جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ لکھا ہے۔ پس اللہ تعالٰی نے آدم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اے آدم یہ تیری اولاد سے آخری نبی ہے، اگر یہ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا (در المنثور) 

   امام بیضاوی فرماتے ہیں توبہ اپنے گناہ کے اعتراف، اس پر ندامت اور اس چیز کے پکے ارادہ کا نام ہے کہ دوبارہ اس کی طرف نہیں لوٹےگا اور یہاں صرف آدم علیہ السلام کا ذکر کیا کیوں کہ حضرت حواء حکم میں آپکی تابع ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اکثر جگہ قرآن و سنت میں عورتوں کے ذکر میں اسی پر اکتفاء ہے. (بیضاوی) 

سورۃ الاعراف میں دونوں کی توبہ کا ذکر ہے. 


قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(38)



ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم. 


جب حضرت آدم و حوا علیہما السلام سے لغزش ہو گئی اور دونوں کو اترنے کا حکم ملا تو دونوں نے اس حکم کے بعد توبہ کی اور دل میں خیال آیا کہ لغزش کی وجہ سے اترنے کا حکم تھا اب توبہ کے بعد لازمی ہے کہ یہ اترنے کا حکم باقی نہ رہے تو اللہ تعالی نے دوبارہ ھبوط کا حکم دیا تاکہ انہیں اس بات کا علم ہو جائے کہ ھبوط، لغزش کے ارتکاب پر بطور سزا نہیں کہ وہ اس کے زوال سے زائل ہو جائے بلکہ وہ تو توبہ کے بعد بھی باقی رہے گا کیونکہ اس میں پہلے وعدہ کا پورا کیا جانا ہے۔ فرمان الہی ہے: إنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ ( البقره ٣٠) میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں(کبیر) 


امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کریمہ میں ہُدًی سے مراد انبیاء، رسل اور بیان ہے (در المنثور، طبری، فتح القدیر، ابن ابی حاتم، ابن کثیر ) 

ھدایت سے مراد ہر قسم کی رہنمائی اور بیان ہے۔ اس میں عقل بھی شامل ہے اور ہر وہ کلام بھی جو نبی پر نازل ہوتا ہے۔ اس میں اس پر تنبیہ ہے کہ حضرت آدم و حوا علہیم السلام پر کس قدر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے گویا یہ فرمایا اگر میں نے تمہیں جنت سے زمین کی طرف اتارا ہے تو میں نے تم پر ایسی نعمت نازل کی ہے جو تمہیں دوبارہ جنت میں داخل کر رہی ہے اور تم وہاں ہمیشہ رہو گے. (کبیر) 


امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر  سے فلا خوفٌ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ آخرت میں انہیں کوئی خوف نہیں ہو گا اور یَحزَنُونْ کا مطلب یہ ہے کہ موت سے وہ غمگین نہ ہوں گے۔ (در المنثور، فتح القدیر، ابن ابی حاتم) 



الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(39) 

اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتوں کو جھٹلائیں  وہ دوزخ والے ہوں گے،وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔


جب اللہ تعالی نے ہدایت کی اتباع کرنے والوں سے عذاب وحزن سے امن کا وعدہ فرمایا تو اس کے بعد ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جن کیلئے عذاب دائمی ہے تو فرمایا: "وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا " خواہ یہ منکر انسان ہوں یا جن یہ ہمیشہ کا عذاب پائیں گے ۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں تو جہنم میں نہ موت آئے گی نہ وہ زندہ رہیں گے،   لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو ان کے گناہوں یا ان کی خطاؤں کی وجہ سے آگ کا عذاب دیا  جائے گا یہ جل کر کو ئلے ہو ہو کر مرجائیں گے اور پھر شفاعت کی وجہ سے نکال لئے جائیں گے۔( صحیح مسلم

 


واضح ہونا چاہئے کہ آئندہ آیات یعنی  یٰبَنِیْ اسرائیل اذكروا نعمتي التي انعمت عليكم " کا ماقبل سے ربط یہ ہے کہ اللہ کریم نے اس سے پہلی آیات میں دلائل توحید، نبوت اور آخرت کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد اپنے عام احسانات کا ذکر فرمایا تاکہ مذکورہ مضامین اور زیادہ پختگی کے ساتھ ثابت ہو جائیں ، اس حیثیت سے کہ یہ حکیمانی واقعات ہیں ایک ایسی حکیم ذات پر دلالت کرتے ہیں جو  خلق اور امر(حکم) میں یکتا ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور ان واقعات کی ایک حیثیت یہ بھی ہے کہ ان کو پیش کرنے والا ، ان کی خبر دینے والا اور کتب سابقہ میں جس طرح درج ہے ، ٹھیک اسی طرح خبر دینے والا ان میں سے ہے جس نے ان کتابوں میں سے کوئی کتاب نہ پڑھی ، نہ کسی سے سیکھی اور نہ سنی ، اس طرح کی خبر خبر بالغیب ہے اور معجزہ ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ خبریں دینے والا نبی برحق ہے. (بیضاوی)

Monday, 5 June 2023

Surat ul baqarah ruku : 3 mustanad tafaseer ki roshmi me

 وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(23)

اور اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پر نازل کی ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ اور اللہ کے علاوہ اپنے سب مددگاروں کو بلا لو اگر تم سچے ہو. 



جب اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کو ثابت کرنے اور شرک کو باطل قرار دینے پر دلیل  قائم کردی تو  اس کے بعد نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر حجت قائم کی, جو قرآن کے معجزہ ہونے کے شک کو دفعہ کر دے تو ان کو چیلنج کیا گیا ہے کہ قرآن کی سورتوں میں سے کوئ ایک سورت کی مثل لے آئیں. (فتح القدیر) 


اس جگہ اللہ کریم نے نزلنا کا لفظ ذکر فرمایا  جس کا معنی تھوڑا تھوڑا حسب واقعہ نازل کرنا ہے۔ اور ایسا کلام خطیب اور شاعر پیش کرتے ہیں۔ اور یہ چیز بھی عرب کے فصحاء کو قرآن کریم میں شک کا سبب بننے والی چیزوں میں سے تھی۔ جس طرح اللہ کریم نے خود ذکر فرمایا ہے، اور کافروں نے کہا کہ یہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ کیا گیا۔(الفرقان :32) تو اس کی کیا وجہ ہے؟

امام نسفی فرماتے ہیں ۔قرآن میں اختیار کیا گیا۔ جو خطباء اور اہل شعر کا ہوتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا موقعہ بموقعہ اپنا کلام لاتے ہیں  نظم کرنے والا اپنا دیوان یک بارگی پیش نہیں کرتا۔ اور نہ نثر کو اپنا خطبہ ایک بار کہہ ڈالتا ہے۔ اس پر کفار کو کہا گیا کہ اگر تمہیں اس میں شبہ ہے کہ اس کا اتارنا اس تدریج سے کیوں ہے؟ تو فأتوا بسورة ( تو لاؤ ایک سورت ) تو تم ایک بار کے مقابلہ میں ایک بار بنالاؤ اور ایک ٹکڑا کے مقابلہ میں ٹکڑا لے آؤ ۔ اور اس کی سورتوں میں سے کوئی انتہائی چھوٹی سورت بنا لاؤ۔(نسفی) 

    نَزَّلْنَا

   اَنزَلنا کی بجائے نَزَّلْنَا فرمايا کیونکہ تدریج وتنجیم سے اتارنا مراد ہے اور چیلنج کے موقعہ پر یہی مقابل بنتا ہے۔


امام بیضاوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جو ان کے شک کا منشا تھا اس کے مطابق ان کو چیلنج کرنا واجب تھا۔ تاکہ ان کے شک کا ازالہ ہو جائے ۔ اور ان پر دلیل بن جائے اور یہاں اللہ کریم نے عبد کی نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی ہے تاکہ اس کے ذکر کرنے سے آپ کی عظمت شان کا اظہار ہو اور اس بات پر تنبیہ ہو کہ اللہ کریم کے محبوب کا اس کی ذات کے ساتھ خاص تعلق ہے اور آپ اس کے حکم کے فرمانبردار اور مطیع ہیں۔(بیضاوی) 


امام رازی کہتے ہیں ہر شاعر کا کلام کسی ایک فن میں کمال پر ہوتا ہے جبکہ اس فن کے علاوہ میں اس کا کلام کمزور ہوتا ہے لیکن قرآن تمام فنون کے اعتبار سے فصاحت کے آخری درجہ پر ہے. 

 یعنی قرآن میں خوف و خشیت کے بارے میں جتنی  فصاحت ہے وہیں امید و رجاء کے بارے میں بھی کمال فصاحت ہے قصوں کے بیان میں اعلی درجہ کی فصاحت اور عمدہ درجہ کی نصیحت ہے. 

قرآن تمام علوم کی اصل ہے، علم کلام سارا کا سارا قرآن میں ہے علم فقہ اسی طرح علم اصول فقہ، نحو ولغت کے علوم، زھد دنیا اور آخرت کی خبریں، مکارم اخلاق کا استعمال الغرض سب کچھ قرآن 

میں ہے. (کبیر) 

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۚۖ-اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ(24)

پھر اگر تم یہ نہ کر سکو اور تم ہرگز نہ کر سکوگے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔ وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔


جب ان کی رہنمائی اس جہت کی طرف کر دی، جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کی سچائی پہچان سکیں تو انہیں فرمایا اگر تم مقابلہ نہ کر سکو، اور تمہاری عاجزی ظاہر ہو جائے تو پھر (اصولاً ) اس کی تصدیق واجب ہو گئی۔ پس تم ایمان لاؤ۔ اور اس عذاب سے ڈر جاؤ۔ جو اس کے مکذبین اور معاندین کے لیے تیار کیا گیا ہے۔(بیضاوی) 

آیت میں آگ سے بچنے کے لیے اس جیسی سورۃ کے لانے کی نفی کرنا شرط قرار دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ نہ لائے تو معارضہ سے ان کی عاجزی خوب ظاہر ہو گئی ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی ثابت ہو گئی ۔ پھر انہوں نے عناد کو لازم کر کے آپ کی اطاعت سے انکار کر دیا۔ جس کی بناء پر انہوں نے آگ کو اپنے لیے واجب کر لیا۔ پس انہیں کہا گیا۔ اگر تمہاری عاجزی ظاہر ہوگئی ہے تو عناد کو ترک کرو، اس کی بجائے۔ فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتي : ( پس تم بچو اس آگ سے) کہہ دیا۔ اس لئے کہ آگ سے بچنا عناد کو ترک کر دینے کے سبب ہی ہو سکتا ہے۔(نسفی) 

وَقُود: ایندھن، جس سے آگ جلائی جائے۔ 

وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ۔۔۔

اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں. 


 جب لوگ باقی آگوں میں کسی کو جلاتے ہیں یا پتھر کو گرم کرتے ہیں تو پہلے کسی ایندھن سے آگ جلاتے ہیں اور اس شی کو جلانے کے لئے پھینکتے ہیں (اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا صدقہ اس سے ہمیں اپنی پناہ میں لے لے) یہ آگ تو جل ہی اس سے رہی ہے جس کو جلانا ہے یعنی انسان ایندھن بنے گا۔(کبیر) 




وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًاۙ-قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُۙ-وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاؕ-وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌۗۙ-وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(25)

اور ان لوگوں کو خوشخبری دو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ۔جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے دیا گیا تھا حالانکہ انہیں ملتا جلتا پھل (پہلے )دیا گیا تھا اور ان (جنتیوں )کے لئے ان باغوں میں پاکیزہ بیویاں ہونگی اور وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے۔


  اللہ تعالی نے کفار کی جزا کے ذکر کے بعد مومنین کی جزا کا ذکر کیا. (قرطبی) 

امام طبری فرماتے ہیں کہ ابو جعفر نے کہا بشِّر یعنی انہیں خبر دیجئیے. 

یہ اللہ کی طرف سے نبی مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ وہ اللہ کی بشارت اللہ کی اس مخلوق تک پہنچا دیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ پر، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس پر جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے پاس سے لیکر آئے اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے اس ایمان اور اقرار  کو اپنے اعمال صالحہ کے ذریعہ سے ثابت کرتے ہیں. 

     آپ علیہ الصَّلٰوةَ والسلام سے کہا گیا کہ اے محبوب! خوشخبری دو ان کو جنہوں نے آپ کی تصدیق کی کہ آپ اس کے رسول ہیں، اور جس ہدایت اور نور کو آپ لیکر آئے ہیں وہ میری (یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی) جانب سے ہے. (طبری) 




امام رازی فرماتے ہیں حصول لذت کے تین مقامات ہیں مسکن (رہنے کی جگہ)، مطعم (کھانا)، نکاح. 

مسکن کے لئے فرمایا ایسے باغات جن کے نیچے نہریں بہیں، مطعم کے لئے رزق کا بیان کیا اور نکاح کے لئے پاکیزہ بیویاں. ان اشیاء کے حصول کے بعد اگر زوال کا خوف بھی ہو تو خوشی کڑوی ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے خوف کو بھی زائل کر دیا کہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے. (کبیر) 


امام ابن مردویہ، ابونعیم ، الضیاء المقدسی ان دونوں نے صفة الجنۃ میں حضرت انس سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تم یہ خیال کرتے ہوگے کہ جنت کی نہریں کھائیوں میں زمین کے اندر چلتی ہیں قسم بخدا نہیں وہ سطح زمین پر چلتی ہیں اس کے کنارے موتیوں کے خیمے ہیں ، اور اس کی مٹی اذفر کستوری ہے میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذفر کیا ہے فرمایا جس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہو۔(در المنثور) 

ابن ابی الدنیا اور الضیاء اور ابن مردویہ نے ابو موسیٰ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کی نہریں جنت عدن سے اکھٹی نکلی ہیں پھر مختلف نہروں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔(در المنثور) 

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جب انہیں اس سے عطا کیا جائے گا۔ ( آلایہ )

 امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور کئ دوسرے صحابہ سے كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًاۙ کی تفسیر روایت کی ہے کہ جب انہیں جنت میں پھل دیا جائے گا تو وہ اس کو دیکھ کر کہیں گے یہ تو ہمیں اس سے پہلے دنیا میں دیا گیا ہے ان کو جو جنت میں پھل ملے گا وہ رنگ اور دیکھنے میں دنیا کے پھل کے مشابہ ہوگا لیکن ذائقہ میں اس کے مشابہ نہیں ہو گا. (در المنثور،ابن کثیر، طبری، فتح القدیر) 

وکیع عبد الرزاق اور ہناد نے الزہد میں، عبد بن حمید ، ابن جریر نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ اہل جنت کی بیویاں حیض، بول، براز، رینٹ، کھنکار تھوک منی اور بچے سے پاک ہوں گی (ابن کثیر، در المنثور، طبری ) 



امام احمد، بخاری، مسلم اور بیہقی نے البعث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، صحابہ کرام آپس میں تذکرہ کر رہے تھے کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟ تو ابو ہریرہ نے فرمایا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ہر جنتی کے لیے دو بیویاں ہوں گی اور اور ستر جوڑوں کے پیچھے سے انکی پنڈلیوں کا گودا نظر آئے گا۔ اور جنت میں کنوارا کوئی نہیں ہو گا ۔(در المنثور، مسلم، بخاری، احمد) 

 ابن السکن نے المعرفہ میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حاطب بن ابی بلتعہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جنت میں مومن کا بہتر عورتوں سے نکاح ہوگا۔ ستر آخرت کی عورتیں ہونگی اور دو دنیا کی عورتیں ہونگی۔(در المنثور) 

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَاؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًاۘ-یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًاۙ-وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًاؕ-وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ(26)


بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کے لئے کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر۔ بہرحال ایمان والے تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور رہے کافر تو وہ کہتے ہیں ، اس مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ اللہ بہت سے لوگوں کو اس کے ذریعے گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت عطا فرماتا ہے اور وہ اس کے ذریعے صرف نافرمانوں ہی کو گمراہ کرتا ہے۔


امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور کئی دوسرے صحابہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں اللہ تعالی نے منافقین کے ِلیے كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَاراً اور اَو کَصیّبٍ مِنَ السّماء کے ساتھ مثالیں بیان فرمائیں تو منافقین نے کہا اللہ تعالی ایسی امثال بیان کرنے سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت مذکورہ آیات نازل فرمائیں. (در المنثور) 

ابن کثیر، طبری، آلوسی، ابن جوزی نے اس حدیث کو دوسرے طرق سے بیان کیا. 

جب گزشتہ آیات میں مختلف قسم کی امثال بیان کیں اس کے بعد ان مثالوں کی خوبی کو بیان کیا۔ (بیضاوی) 


جب انسان معنی ذکر کرتا ہے۔ تو اس پر بات کما حقہ واضح نہیں ہوتی جب اس کی مثال سامنے

آجائے تو وہ خوب واضح و آشکار ہو جاتا ہے۔ جب مثال دینا، بیان و وضاحت میں مفید ہے تو اس کتاب مقدس میں اس کا تذکرہ ہوگا جس کا مقصد ہی وضاحت و بیان ہے۔ رہا ان کا یہ سوال کہ ان حقیر اشیاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا مثالیں بیان کرنا مناسب نہیں ، یہ سراپا جہالت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہی صغیر و کبیر کو پیدا کیا ہے اور ہر مخلوق میں اس کا حکم عام ہے اس لیے کہ تمام کو اس نے پختہ کیا تو صغیر کسی کبیر سے اخف نہیں اور عظیم کسی صغیر سے مشکل واصعب نہیں جب تمام بمنزل واحد ہیں تو کبیر کو صغیر پر کسی طرح بندوں کیلئے مثال بنانے میں اولویت نہیں بلکہ قصہ میں مناسب کا اعتبار ہوگا، جب اس کے مناسب مکھی اور مکڑی ہے تو انہی کی مثال بیان ہوگی نہ کہ ہاتھی و اونٹ کی تو جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بتوں کی عبادت اور عبادت رحمن سے ان کی دشمنی کی شناعت و قباحت کے بیان کا ارادہ فرمایا تو مکھی کی مثال ہی مناسب تھی کہ ان بتوں سے مکھی کے نقصان کا ازالہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور بیت العنکبوت کی مثال دی تاکہ آشکار ہو جائے کہ ان بتوں کی عبادت اس سے بھی کمزور و اضعف ہے، ایسی مثال میں، جس کی مثال دی گئی ہو وہ اضعف ہوتا ہے جبکہ مثال اقویٰ واضح ہوگی۔(کبیر) 


 امام عبد بن حمید، ابن جریر نے حضرت مجاہد سے اس آیت سے متعلق یہ نقل کیا ہے کہ مومنین اس مثال پر ایمان لاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں ایسی مثالوں کے ذریعے ہدایت دیتا ہے اور فاسق اس کو جانتے ہیں پھر کفر کرتے ہیں(در المنثور،طبری، فتح القدیر) 


ٱلَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهۡدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مِیثَـٰقِهِۦ وَیَقۡطَعُونَ مَاۤ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦۤ أَن یُوصَلَ وَیُفۡسِدُونَ فِی ٱلۡأَرۡضِۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡخَـٰسِرُونَ(27)

وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔


یہ فاسقین کی صفت ہے اور ان کی مذمت اور ان کے فسق کی پختگی کے لئے لائی گئی ہے۔(بیضاوی) 


) وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ الله اور اس سے بے حکم ہی گمراہ ہوتے ہیں جو اللہ کے عہد کو کرنے کے بعد توڑتے ہیں) واضح کر رہا ہے کہ اللہ تعالی گمراہی ان پر اس وقت مسلط کرتا ہے جب وہ اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ کر نافرمان بن جاتے ہیں، اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ ان کا گمراہ ہونا ان کے فاسق اور ناقض عہد ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ گمراہی، ان کے فسق و نقض عہد کی بنا پر ہے. (کبیر) 

حضرت سدی  اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں (ٱلَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهۡدَ ٱللَّهِ وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں) یہ وہی عہد ہے جو اللہ کریم نے ان سے قرآن مجید میں فرمایا، تو انہوں نے اس کا اقرار کیا پھر اس سے کفر کیا تو اس کو توڑ دیا. (ابن کثیر، ابن جوزی، ابن ابی حاتم) 

اسی کے مثل ربیع بن انس اور ابی العالیہ سے روایت ہے. 

(من بعد ميثاقه۔۔۔ اپنے عہد کو پختہ کرنے کے بعد) ۔ میثاقہ کی ضمیر کا مرجع لفظ عہد سے ہے اور میثاق ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کے ذریعے استحکام حاصل ہوتا ہے اور یہاں میثاق سے مراد وہ آیات اور کتابیں ہیں جن کے ساتھ اللہ کریم نے اس عہد کو پختہ کیا یا اس سے مراد وہ چیزیں ہوں گی جن کے ذریعے بندوں نے اس عہد کو پختہ کیا یعنی اس کو لازم پکڑنا اور اس کو قبول کرنا ہے


وَیَقۡطَعُونَ مَاۤ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦۤ أَن یُوصَلَ۔۔۔

 یہاں قطع سے ہر وہ قطع تعلقی ہے جس کو اللہ کریم نا پسند فرماتا ہے مثلاً قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی نہ کرنا مومنین کے ساتھ دوستی سے اعراض کرنا اور انبیاء کرام علیہم الصَّلٰوةَ وَ السلام اور آسمانی کتابوں میں تفریق کرنا یعنی بعض پر ایمان لانا اور بعض کا انکار کرنا ، اور فرضی اجتماعات میں شرکت نہ کرنا اور ان کے علاوہ ہر قسم کی بھلائی کو چھوڑنا اور برائی کو اپنانا وغیرہ کیونکہ بھلائی کو چھوڑنا اور برائی کو اپنانا  یہ اس تعلق اور واسطے کو توڑ دیتے ہیں جو بالذات اللہ کریم اور اس کے بندے کے درمیان مقصود ہوتا ہے۔ (بیضاوی) 


امام قرطبی فرماتے ہیں یہ حکم عام ہے ہر اس چیز کے بارے میں جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا. 


كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(28)


بھلا تم کیوں کر خدا کے منکر ہوگے حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے ۔

امام ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے آباء کی صلبوں میں تھے اور کچھ بھی نہ تھے حتی کہ اس نے تمہیں پیدا فرمایا پھر وہ حق کی موت مارے گا پھر تمہیں  زندہ کرے گا جب  تمہیں اٹھایا جائیگا. (در المنثور، ابن کثیر) 

 

اللہ کریم نے اس سے ما قبل اپنی توحید و  نبوت کے بےشمار دلائل دیئے ہیں۔ ایمان پر جنت کا وعدہ اور کفر پر عذاب جہنم کی وعیدیں سنائی ہیں اب اللہ کریم ان پر اپنی خاص اور عام نعمتوں کا تذکرہ فرماکر مومنین کے ساتھ وعدہ اور کافروں پر وعید کو مؤکد کر رہا ہے اور عظیم الشان نعمتوں کے باوجود ان کا کفر اور ناشکری قبیح اور بعید از مکان ہے کیونکہ نعمت جتنی بڑی ہوتی ہے اس کا کفر اور ناشکری کی سزا بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔ (تلخیص بیضاوی) 


هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ-ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍؕ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(29)

وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے اور وہ سب کچھ جانتا ہے ۔


ان آیات سے آپ ابتداء تخلیق کائنات اور اس کی توجیہ کا بیان مطالعہ کرینگے. 

 امام رازی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کیا ہی خوبصورت ترتیب بیان کی کیونکہ زمین و آسمان سے نفع زندگی کے بعد ہی ہو سکتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے حیات کا ذکر کیا اس کے بعد آسمانوں اور زمین کا تذکرہ لایا۔(کبیر) 


 حاکم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ یہود نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے تو انہوں نے آپ علیہ الصَّلٰوةَ والسلام سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بارے میں سوال کیا تو آپ علیہ الصَّلٰوةَ وَ السلام نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اتوار اور پیر کے دن زمین کو پیدا کیا اور منگل کے دن پہاڑوں اور جو اس میں منافع ہیں ان کو پیدا کیا، بدھ کے دن درختوں اور پانی، میدانوں اور آبادیوں اور ویرانوں کو پیدا کیا تو یہ چار ہوئے تو اللہ رب العالمین نے فرمایا :تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو وہ ہے سارے جہان کا رب۔اور اس میں اس کے اوپر سے لنگر ڈالے اور اس میں برکت رکھی اور اس میں اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملاکر چار دن میں ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو۔(حم السجدہ :٩،١٠)

اور جمعرات کے دن آسمان کو پیدا کیا اور جمعہ کے دن ستاروں، چاند، سورج اور ملائکہ کو پیدا کیا. (تفسیر آلوسی) 

سورہ حٰم السجده میں اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا:

پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے تو اُنھیں پورے سات آسمان کر دیا دو دن میں اور ہر آسمان میں اسی کے کام کے احکام بھیجے اور ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور نگہبانی کے لیے یہ اس عزت والے علم والے کا ٹھہرایا ہوا ہے۔(حم السجدہ١٠،١١)

   امام بيہقی  فرماتے ہیں استواء اَقبَلَ یعنی متوجہ ہونے کے معنی میں صحیح ہے اس لئے کہ اقبال کا معنی آسمانوں کی تخلیق کا قصد کرنا. اور قصد ارادہ کو کہتے ہیں. (قرطبی)

Wednesday, 26 April 2023

ترتیب آیات سورۃ البقرہ رکوع :ا

 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ

 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ


 الٓمّٓ (1)



 امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، مفسرین نے الٓمّٓ کے بارے میں کئ باتیں بیان کی ہیں۔ جس میں سے ایک یہ ہے، "کہ یہ متشابہات میں سے ہے، جس کے حقیقی معنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا" (تفسیر ابن جوزی)

     سورۃ الفاتحہ میں کتاب کے مقصود کو بیان کیا گیا۔ جس کا معنی اِتنا ظاہر ہے بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن سورۃ البقرۃ کو ایسے حروف سے شروع کیا گیا، جس کے معنی کو سمجھنے سے بڑے علماء کی عقلیں بھی حیران ہیں۔ (نعیمی)


 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، "ہر کتاب کے کچھ راز ہوتے ہیں اور قرآن کے راز سورتوں کے شروع میں آنے والے الفاظ ہیں"۔ (تفسیر آلوسی و ابن جوزی)

    اسی طرح امام طبری اور امام جلال الدین سیوطی نے داؤد ابن ہند سے روایت بیان کی۔  (طبری، در منصور)


      اور قرآن حکیم میں ہے:

 وَ  مَا  كَانَ  اللّٰهُ  لِیُطْلِعَكُمْ  عَلَى  الْغَیْبِ  وَ  لٰكِنَّ  اللّٰهَ  یَجْتَبِیْ  مِنْ  رُّسُلِهٖ  مَنْ  یَّشَآءُ   ۪-  فَاٰمِنُوْا  بِاللّٰهِ  وَ  رُسُلِهٖۚ-وَ  اِنْ  تُؤْمِنُوْا  وَ  تَتَّقُوْا  فَلَكُمْ اَجْرٌ  عَظِیْمٌ۔


 

اور اللہ کی شان نہیں، کہ اے لوگو!  تمہیں غیب کا علم دے۔ ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے۔ تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر۔ اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری اختیار کرو، تو تمہارے لیے بڑا ثواب ہے۔  (آل عمران: 179)

  

 اب ہم اپنے اصل موضوع ترتیبِ قرآن پر آتے ہیں..

      تو یقینن آپ نےاس سے پہلے سورۃ الفاتحہ کو پڑھا۔ وہ جس میں سب سے پہلے اللہ کی شان بیان کی گئی۔ پھر اللہ کی رحمت کا ذکر ہوا اور اس کے بعد اس کی بڑائی بیان کی گئی۔ اب آپ سورۃ البقرۃ کی طرف آتے ہیں، تو اس کو الٓمّٓ سے شروع کیا گیا ہے۔ جس کے حقیقی معنی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن مفسرین نے اس کی کئ تاویلات بیان کی ہیں۔ جس میں سے ایک اقتباس مجھے سورۃ الفاتحہ سے منسلک ملا، جو پیشِ خدمت ہے۔




 حضرت ابو العالیہ اور ربیع بن انس سے روایت ہے، "الف سے مراد اللہ ہے، لام سے مراد لطیف ہے اور میم سے مراد مجید ہے۔" (در منصور، طبری، ابن جوزی)


 تشریح: پہلی آیت میں اللہ کی شان بیان ہوئی۔


      لطیف : (بہت زیادہ لطف کرنے والا) لطف عام زبان میں ایک اندر سے ملنے والی خوشی ہے، جو اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔


            مجید : بزرگ یعنی بڑائی والا تو وہ آخرت کے دن کا مالک ہے۔ جس دن سارے بادشاہوں کی بادشاہت ختم ہو جائے گی اور وہ بڑی شان سے فارمائیگا "آج کس کی بادشاہت ہے"۔  

(سورۃ المومن : 16)


      


    تو وہی اللہ عبادت کے لائق ہے۔


   

        ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ (2)


 وو بلند رتبہ کتاب جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اس میں ڈرنے والے کے لیے ہدایت ہے۔


     امام آلوسی بیان کرتے ہیں کہ سب سے انوکھی بات جو میں نے دیکھی کہ سورۃ الفاتحہ میں صراط مستقیم کی طرف اشارا ہے گویا کہ لوگو نے ہدایت کا سوال کیا تو ان سے کہا گیا کہ جس راستے کی طرف تم ہدایت کے طلبگار ہو وہ یہ کتابیعنی قرآنِ کریم ہے۔  (تفسیر آلوسی)


      حضرت قتادہ مُتَّقِیْنَ کے بارے ميں فرماتے ہیں، وہ مومنین ہیں، جن کی تعریف اللہ نے اگلی آیت میں بیان کی۔ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ (تفسیر ابن کثیر و ابن ابی حاتم) 

         سورۃ الفاتحہ میں آگے تین قسم کے لوگوں کا ذکر ہے۔

 (1) انعام یافتہ لوگ، جو متقین یعنی مومنین ہیں۔ اب سورۃ البقرۃ میں بیان ہوگا کہ انعام یافتہ لوگو کی کیا خوبیاں ہیں۔


 الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ۔(3)


 وو لوگ جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔




            ترتیب


 حضرت قتادہ ھُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ کے بارے ميں فرماتے ہیں، اُن کی خوبی اور اُن کا وصف یہ ہے، الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ یعنی وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں الایة۔  (در منثور)

         امام آلوسی، امام رازی، امام نسفی اور امام شوکانی نے بھی اس آیت کے بارے میں یہی بیان کیا کہ یہ متقین کے وصف ہیں۔

       یعنی اس آیت میں متقین کی تفسیر ہے کہ متقین کون لوگ ہیں۔

 حضرت ابن عباس غیب کے بارے ميں فرماتے ہیں، "جو اس یعنی اللہ کی طرف سے آیا"۔  (طبری) 

     اس سے واضح ہوا کہ غیب کا معنی اگلی آیت میں ہے۔ 

  وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ.  بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ (4)


 اور وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو تم پر نازل کیا گیا۔ اور جو تم سے پہلے نازل کیا گیا اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ 


      حضرت عبد اللہ ابن مسعود اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، "الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ" یہ عرب کے مومنین ہیں۔ 

 (وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ) الآية.  یہ اہل کتاب کے مومنین ہیں۔ پھر اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ. انہیں دونوں کو جمع کیا۔ (در المنثور، فتح القدیر، ابن کثیر)

        امام طبری فرماتے ہیں، کہ اہل عرب کے پاس اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں تھی۔ جو اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی۔ جس کی تصدیق کر کے وہ اس کا اقرار کرتے اور اس پر عمل کرتے۔ کتاب اہل کتاب کے پاس تھی۔ (طبری)

    

 ایمان بالغیب کے بارے میں مفسرین کے دو قول ہیں۔ پہلا تو یہ کہ وہ اہل عرب کے مومنین ہیں۔ جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تھی اور اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ مثال، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین، دوسرا قول یہ کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والے وہ مومنین ہیں، جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آے اور انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔ اس قول کی حمایت میں مفسرین نے کئ روایت نقل کی ہیں۔ جو آپ تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہم یہاں صرف دو روایت اس قول کی تائید میں پیش کرینگے۔ 

      ابن ابی شیبہ نے عوف بن مالک سے تخریج کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کاش میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرتا" انہوں نے (صحابہ) کہا، "کیا ہم آپ کے بھائی اور اصحاب نہیں" فرمایا، "کیوں نہیں، لیکن تمہارے بعد ایک قوم آئیگی جو مجھ پر تمہاری طرح ایمان لائے گی، میری تمہاری طرح تصدیق کرے گی۔ تمہاری طرح میری مدد کرے گی۔ کاش! میں اپنے ان بھائیوں سے ملاقات کرتا"  (در المنصور)

     ابن عساکر نے حضرت انس سے تخریج کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "کاش! میں اپنے بھائیوں سے ملتا" تو صحابہ کرام میں سے ایک شخص نے کہا "کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں" فرمایا، "کیوں نہیں، تم میرے صحابی ہو اور میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور مجھ پر ایمان لے آئیں گے، حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا۔ پھر تلاوت کی "الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ" (در المنثور)

    اسی سے ملتی جلتی کئ روایات مختلفر تفاسیر میں ابن کثیر، امام ابن جوزی اور امام جلال الدین سیوطی نے در المنثور میں کئ طرق سے بیان کی۔


     اس روایت کو میں نے اس لیے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تلاوت فرمائی ۔

      یہ ایمان بالغیب  کے بارے میں مفسرین کے اقوال ہیں۔ اوپر کی روایت میں عرب کے مومنین کا ذکر ہے۔ جس سے واضح ہوا کہ اس میں وہ سب لوگ شامل ہیں، جن پر اللہ کی طرف  سے کچھ نازل نہیں ہوا اور وہ اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔

     اللہ رب العزت نے اگے فرمایا۔ 


          اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (5)


      یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ 


 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ  کے بارے میں فرمایا یعنی اپنے رب کی طرف سے نور اور جو اُن کی طرف (قرآن) آیا اس کی استقامت پر ہیں۔  (تفسیر ابن ابی حاتم، ابن جوزی، ابن کثیر، طبری)

       استقامت یعنی کسی چیز پر جم جانا اور اس سے نہ ہٹنا، جس طرح سورۃ الفاتحہ میں بھی صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی دعا کی گئی ہے۔ تو یہاں یہ واضح ہو گیا کہ اس سیدھی راہ پر کون لوگ قائم ہیں۔ 

        امام طبری اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں۔  "اس سے پتہ چلا کہ یہ لوگ خاص اہل ہدایت اور فلاح (کامیابی) سے ہیں نہ کہ ان کے علاوہ بلکہ ان کے علاوہ جو لوگ ہیں وہ گمراہی اور نقصان والے ہیں۔" (طبری)


      آگے فرمایا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ یعنی یہ لوگ کامیاب ہیں اور کامیابی کے بعد ہی انعام ملتا ہے۔ تو سورۃ الفاتحہ میں جن انعام یافتہ لوگو کا ذکر تھا، یہ اس کی تفسیر تھی۔ اس کے بعد غضب یافتہ لوگوں کا ذکر ہے۔ جس کی وضاحت اس سے اگلی آیت میں ہے۔


   اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (6)


 بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، ان کے لئے برابر ہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں۔ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

      جب اپنے اولیاء کا ذکر ان خوبیوں سے کر دیا، جو اس کی طرف قریب کرنے والی ہیں۔ اور یہ بیان فرما دیا کہ کتاب ان کے لئے ہدایت ہے، تو اس کے بعد ان کے مخالفین کا ذکر کیا اور وہ سرکش دھتکارے ہوئے وہ لوگ ہیں، جن کو ہدایت فائده نہیں دیگی۔ 

 حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے فرماتے ہیں، عرض کیا گیا، یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم قرآن پڑھتے ہیں تو ہمیں بہت امید ہو جاتی ہے۔ اور کبھی ہم قرآن پڑھتے ہیں، تو قریب ہوتا ہے کہ ہم مایوس ہو جائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تم کو جنت والوں اور جہنم والوں کی خبر نہ دوں؟ عرض کی، کیوں  نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم تو حضور نے الٓمّٓ سے الْمُفْلِحُوْنَ تک پڑھا اور فرمایا یہ جنتی ہیں۔ صحابہ نے کہا ہم اس کی امید لگاتے ہیں کہ ہم ان میں سے ہوں۔ پھر فرمایا اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے عَظِیْمٌ تک یہ جہنمی ہیں۔ تو ہم نے کہا، ہم ان میں سے نہیں ہیں یا رسول اللہ! صلی الله عليه وسلم تو فرمایا، ہاں۔ (تفسیر ابن ابی حاتم، در المنصور)



 حضرت ابن اسحاق، ابن جریج اور ابن ابی حاتم نی حضرت ابن عباس سے تخریج کی۔

  اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ جو لوگ کفر کرتے ہیں"

   جنہوں نے کفر کیا یعنی بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ جو آپ پر نازل ہوا اگرچہ وہ کہیں کہ جو اس سے پہلے آیا ہم اس پر ایمان لائے ہیں۔ ان پر برابر ہے تم اُن کو ڈراؤ یا نہ دڑاؤ وہ ایمان لانے والے نہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو آپ کا ان کے پاس ذکر ہے اس کا انکار کیا اور اسے تو گویا انہوں نے جو چیز آپ لے کر آئے ہیں اس کو جھٹلا دیا اور اس کو جو ان کے پاس ہے جس کو آپ کے علاوہ دوسرے انبیاء لے کر آئے تو وہ آپ کی جانب سے ڈرانا کہاں سنیں گے جبکہ وہ کفر کر چکے اس سے جو ان کے پاس آپ کے بارے ميں علم ہے۔

 خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘

 تو ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردے ہیں یعنی ہدایت سے، کہ وہ اس ہدایت کو کبھی بھی نہیں پہنچیں گے بغیر اس حق کے، جس کو آپ لائے ہیں اور اس کی وجہ سے یہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس پر ایمان لائیں اگرچہ آپ سے پہلے جو کچھ ہے اس سب پر ایمان لے آئیں اور ان کے لیے جو انہوں نے آپ کے خلاف کیا، عزاب عظیم ہے اور یہ علماء یہود کے بارے ميں ہے۔  (در المنصور، ابن کثیر)

   تفسیر ابن ابی حاتم اور فتح القدیر میں بھی اس روایت کا کچھ حصہ بیان کیا۔



 خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (7)


 امام مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، "خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ۔ مجھے خبر دی گئی کہ گناہ دل پر ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ اس کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں یہاں تک کہ اس پر چپٹ جاتے ہیں اور ان کا اُس پر چپٹ جانا یہی الطبع ہے اور اسی الطبع کو ختم یعنی مہر کہتے ہیں۔ (طبری، ابن ابی حاتم) 


     اس آیت کے بارے میں حضرت قتادہ نے فرمایا، "شیطان ان پر غالب آگیا جب انہوں نے اس کی اطاعت کی تو اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کر دی تو وہ نہ ہدایت کو دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں"۔ (فتح القدیر،  ، ابن ابی حاتم)

Thursday, 2 March 2023

    1.  سورہ فاتحہ کا آغاز

     آخری بلاگ میں ہم نے سورۃ الفاتحہ کو پہلے رکھنے کی حکمت پر بات کی تھی۔ آئیے اب سورۃ الفاتحہ کو آیت کی ترتیب کے مطابق شروع کرتے ہیں۔ اس سے پہلے میں ایک بات کہنا چاہونگی کہ میں جو بھی کچھ آیات کی ترتیب کے اعتبار سے بیان کرونگی، بزرگ علماء کی مستند کتابوں سے ہوگا۔ اپنے پاس سے صرف کچھ چیزوں کی وضاحت کی جائے گی کیونکہ سورۃ الفاتحہ میں ان لوگوں کے پیچھے چلنے کی تعلیم دی گئی ہے جن پر اللہ کا انعام ہوا اور یہی سیدھا راستہ


 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ

 میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں نکلے ہوئے شیطان سے۔



     قرآن کریم میں ہے، "جب تم قرآن پڑھو تو نکلے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو۔"  98: النحل

   تفسیر ابن کثیر میں اس کی حکمت کے بارے میں کہا گیا ہے؛ "کہ اعوذ منھ کے لیے پاکی ہے جو انسان کے منھ سے بیکار اور بیہودہ باتیں نکلتی ہیں اور تلاوتِ کلامِ الٰہی کے لیے تیاری اور اللہ کی طرف سے اس پر مدد چاہنا اور اپنی بندگی اور نا قدری (نااہلیت) کو قبول کرنا اس باطنی دشمن (اندرونی دشمن) کے مقابلے میں سواے اسکے کہ اللہ مدد فرمائے۔



    امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ "اعوذ ان اعمال اور عقائد سے بچنے کی طرف اشارہ ہے جن سے منع کیا گیا"۔




 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحمت والا ہے۔


 ابو جعفر محمد ابن علی سے حدیث نقل ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہر کتاب کی کنجی (چابی) ہے"۔  

(تفسیر در منصور)


       امام بیضاوی فرماتے ہیں: "اللہ نے فرمایا بِسْمِ اللّٰهِ (اللہ کے نام سے شروع) تاکہ اس کے نام کے ذکر سے اس کے نام کی برکت اور مدد حاصل ہو"۔

  (تفسیر بیضاوی)



       ابی الشعثه جابر ابن زید سے بِسْمِ اللّٰهِ کے بارے میں بیان کرتے ہیں؛ "اسم (نام) اللہ اسم اعظم ہے کیا تم نہیں دیکھتے خالص قرآن میں ہر اسم سے پہلے یہی نام پاک آیا ہے."

 (تفسیر ابن ابی حاتم)
       یعنی قرآن عظیم کو اسم اعظم سے شروع کیا گیا۔



 امام رازی رحمۃ اللہ علیہ اس کی ترتیب میں فرماتے ہیں؛ "تسمیہ (بِسْمِ اللّٰهِ) اشارہ ہے نیک اعمال اور عقائد کی طرف"۔




    تقریبن اکثر تفاسیر میں احادیث کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے، "نام الرَّحْمٰن یعنی دنیا و آخرت میں اور خاص مومنین (مسلمانوں) پر رحم کرنے والا۔ اس لئے رحمٰن کو پہلے اور رحیم کو بعد میں رکھا گیا ہے۔





 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (1)

 سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں (دنیا) کا پیدا کرنے والا ہے۔



        انسانی فطرت میں اللہ کی پہچان کی طرف ایک احساس رکھا گیا ہے جب وہ اس جہاں کو دیکھتا ہے تو کہیں نہ کہیں وہ خدا کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ کوئی ہے جو اس دنیا کو چلا رہا ہے۔  بس اسی احساس یا سوال کا جواب قرآن مقدس کی یہ پہلی آیت کریمہ کس شان سے دے رہی ہے وہ اللہ ایک عالم کا پروردگار نہیں بلکہ حضرت ابی العالیہ سے حدیث مروی ہے کہ انسان ایک عالم (تخلیق) ہے جن ایک عالم اور اس کے علاوہ فرشتوں کے اٹھارہ ہزار یا چودہ ہزار زمین پر عالم ہیں اور زمین کے چار زاویے (کونے) ہیں اور ہر کونے پر تین ہزار پانچ سو عالم ہیں۔ جن کو اللہ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا

وہ اللہ ان سب کا پروردگار ہے ۔ 
(ابن کثیر، طبری)



      تو یہ ہے اس اللہ کی شان جو اس کریم کے کلام سے ظاہر ہو رہی ہے۔ حدیث قدسی میں ہے، "میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کے میں پہچانا جاؤں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا"۔  

(الفتوحات المکیہ)



     جب آپ کسی چیز کی تعریف کرتے ہیں تو وہ اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے۔  (نعیمی)

 اور اللہ وہ ہے جس نے نہ صرف پیدا کیا بلکہ اس کی پرورش فرما رہا ہے۔



     حضرت عبد اللہ ابن عباس سے مروی ہے، "رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یعنی مخلوق کا خدا؛ "سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو مالک ہے ساری مخلوق کا، آسمان اور زمین کا، جو کچھ اس کے اندر ہے اور جو کچھ اس کے بیچ میں ہے  جس کو ہم جانتے ہیں یا جسکو نہیں جانتے۔  

(ابن کثیر، ابن جوزی، فتح القدیر)



    امام رازی فرماتے ہیں: "اللہ رب العزت نے اس سورت میں اپنے پانچ ناموں کا ذکر کیا اللہ، رب، رحمٰن، رحیم اور مالک۔ جیسے کہ وہ فرما رہا ہو میں نے تجھے پہلے پیدا کیا تو میں تیرا خدا ہوں پھر میں نے احسان کرتے ہوئے تجھے پالا تو میں تیرا رب ہوں پھر تو نے خطا کی تو میں نے اسے چھپایا تو میں رحمٰن ہوں پھر تو نے توبہ کی تو میں نے اسے بخش دیا تو میں رحیم ہوں پھر ضروری تھا تجھے جزا (بدلے) کی طرف لوٹانا تو میں مالک یوم الدین ہوں ۔

(تفسیر کبیر)



 


        الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (2)

 بہت مہربان رحمت والا

   مخلوق کی پرورش کی وجہ کیا ہے "رب العالمین میں موقع تھا کے شاید وہ پالنے پر مجبور ہے تو یہاں فرمایا، "نہیں وہ صرف اپنی رحمت سے پالتا ہے"۔ 

 (نعیمی)

 

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا اور وہ اپنی ذات کے بارے میں لکھتا ہے جو اس کے پاس عرش پر لکھی ہوئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے"۔  
(بخاری، مسلم) 


    مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ (3)

 جزا (بدلے) کے دن کا مالک 

    حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ یعنی وہ دن جس دن بندو کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا"۔  

(در المنصور، طبری، فتح القدیر)

    فتح القدیر اور طبری میں ابن جریج سے روایت ہے،  "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ" یعنی جس دن لوگون کو انکے بدلے کا حساب دیا جائے گا۔



                                                                بیضاوی اور نسفی میں ہے،  "یَوْمِ الدِّیْنِ کا مطلب بدلے کا دن ہے اور یہ "كما تدين تدان" (جیسا کروگے ویسا بھروگے) سے ہے۔"



      اب اس کی شان اس طریقے سے بیان کی کہ یہ وضاحت ہو جائے کہ یہ مخلوقات (دنیا) کا آخر ہے۔ 

(خزائن العرفان) 
تو مقصد قرآن کیونکہ اللہ کی پہچان ہے تو "اسے یا تو پروردیگار سمجھ کر مان لو یا اس کی رحمت کو دیکھ کر مان لو ورنہ ایک دن ایسا مقرر کیا گیا ہے کہ ماننا ہی پڑے گا"



      رحمت کا یہ مطلب نہیں کہ جو چاہو کرو یا اس کہ خدا ہونے کا ہی انکار کرو بلکہ اس دن اس کی بادشاہت ظاہر کر دی جائے گی۔


 

      یہ توازن آپ کو پورے قرآن میں نظر آئےگا جہاں رحمت کا ذکر ہوگا وہاں عذاب کا بھی ذکر ہوگا۔


اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ (4)


    ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔




 اب اللہ کی حمد اس شان سے بیان کرنے کے بعد کہ وہ ہی حقیقتاً عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ رب ہے، رحمٰن ہے، رحیم ہے۔ بندو کو تعلیم دی کہ وہ اپنے سر کو اسی ایک بادشاہِ حقیقی کے آگے جھکائیں اور اس عظیم دن کے لئے اسی سے مدد چاہیں جس دن وہ حق دین کا فیصلہ فارمائیگا۔


       حدیث:

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا, اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے نماز  کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان بانٹ لیا ہے۔ آدھا میرے لئے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے۔ جب میرا بندہ کہتا ہے، "اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن" تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔ جب وہ کہتا ہے، "الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" تب وہ کہتا ہے اس نے میری ثنا بیان کی۔ جب وہ کہتا ہے، "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ" تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ جب وہ کہتا ہے، "اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ" تو اللہ فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ جب وہ کہتا ہے، 
 "اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ"
 تو اللہ فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔  (صحیح مسلم)


 امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، "اِیَّاكَ نَعْبُدُ" ثنا (تعریف) ہے اور ثنا غیبت میں بہتر اور "اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ" دعا ہے اور دعا حضوری میں بہتر ہے۔

     بندہ جب اللہ کے قریب ہونے کے لیے نماز پڑھتا ہے تو وہ نیت کے بعد اللہ کی ثنا بیان کرتا ہے، پھر جب وہ اللہ کے کرم سے قربت کے مقام تک پہنچتا ہے، تو وہ غیب کے مقام سے حضوری کے مقام میں داخل ہو جاتا ہے۔ 
     اس کی ایک وجہ امام رازی نے یہ بیان کی۔ کہ اللہ کی عبادت، اس کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
(کبیر) 



     تفسیر نسفی میں ہے، عبادت کو استعانت سے پہلے اس لئے رکھا گیا ہے کہ حاجت سے پہلے وسیلہ لانا قبولیت کے زیادہ قریب ہے۔

          اسی طرح امام بیضاوی نے بیان کیا۔



 حضرت قتادہ فرماتے ہیں، "اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ" وہ (اللہ) تمہیں حکم دیتا ہے تم اس کی عبادت کرو اور اپنے کاموں میں اس سے مدد چاہو۔  

(ابن کثیر)
       ابن کثیر کہتے ہیں کہ "اِیَّاكَ نَعْبُدُ" کو "وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ"  سے پہلے اس لئے رکھا گیا کیونکہ عبادت اصل مقصد ہے اور استعانت اس پر وسیلہ ہے۔  
(تفسیر ابن کثیر)
   

 

     مفتی احمد یار خان صاحب نے اس کی ایک وجہ یہ بیان کی کہ کسی کام میں مدد چاہتے ہیں تو وہ اگلی آیت میں ہے۔


   اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ (5)صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ (6) غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ (7)

 ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔  راستہ ان کا جن پر تو نے انعام فرمایا نہ کہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔

      تفسیر طبری میں ہے "صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ" وضاحت ہے صراتِ مستقیم کی کہ وہ کون سا راستہ ہے حالانکہ ہر وہ راستہ جو حق کا راستہ ہے صراتِ مستقیم ہے۔ 


          حضرت علی اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود اور کئ طریقوں سے یہ روایت بیان ہوئی کہ صراتِ مستقیم اللہ کی کتاب ہے۔

(ابن جوزی، فتح القدیر، در منصور، طبری)

      محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ اے حبیب فرمایئے، ہمارے رب ہمیں سیدھے راستے پر چلا راستہ ان کا جن پر تو نے انعام کیا اپنی عبادت اور اطاعت کی وجہ سے۔  

(طبری)



    انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟؟

       امام بیضاوی اور نصفی نے بیان کیا کہ انعام یافتہ لوگ وہ ہیں جو غضب اور گمراہی سے بچے ہوئے ہیں۔
     اِسی طرح کا مفہوم امام طبری نے بیان کیا ہے۔
    
      امام رازی فرماتے ہیں غضب یافتہ لوگ کافر ہیں اور بہکے ہوئے (گمراہ) لوگ منافق۔
     اور یہ اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ بقرہ (جو کی اس سے اگلی سورت ہے) کی پچھلی پانچ آیتوں میں مومنین (انعام یافتہ بندو) کا ذکر کیا اس کے بعد کافروں کا ذکر کیا پھر منافقوں کا۔  
(تفسیر کبیر) 

      اسی طرح امام طبری نے امام مجاہد سے روایت کیا۔

(تفسیر طبری) 

        یہ ہے ان آیتوں کے درمیان تعلق جو ہم نے تفسیر کی کتابوں سے بیان کیا۔ انشاءاللہ اگلے بلاگ میں سورۃ البقرہ کے بارے میں بیان کیا جائے گا۔


           جاری رہےگا.....

      

Wednesday, 18 January 2023

Surat ul baqarah ayat 13 to 16

 بسم الله الرحمن الرحيم

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰـكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(13)

Aur jab unse kaha jaye ki tum aise imaan lao jese dusre log imaan laye to kehte hein ki kya hum bewaqoofo ki tarah imaan layein. Sun lo! Beshak yahi log bewaqoof hein magar ye nahi jante.


     Ibn e abi Hatim ne Hazrat ibn e Abbas se takhreej ki is qoul ke bare me.... 

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ 

(Jab unse kaha jaye imaan lao jis tarah aur log iman laye) yani is tarah tasdeeq karo jis tarah Muhammad (صلى الله عليه وسلم) ke as'haab ne tasdeeq ki, ki beshak wo nabi aur rasool hein aur jo unki taraf nazil hua haq he. 

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ

( to kehte hein kya hum bewaqoofo ki tarah imaan layein) yani (kya hum) as'haab e Muhammad (صلى الله عليه وسلم) ( ki trh imaan layein) 

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ

(Sun lo! Beshak wahi bewaqoof hein) yani jahil hein. 

وَ لٰـكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ 

(magar wo nahi jante) yani aql nahi rakhte. (Fathul Qadeer, Durrul Mansoor) 


وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّاۚۖ-وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْۙ-اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ(14)


    Aur jab ye imaan walo se milte hein to kehte hein, hum imaan la chuke hein aur jab apne shetano ke pas akele me jate hein to kehte hein ki hum tumhare sath hein, hum to bas hansi (mazaq) karte hein. 


     Hazrat ibn e Masood is qoul 

وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْۙ(jb wo apne shetano k sath akele hote he) 

ke bare me farmate hein(yaha shayateen se murad) ; kafiro ke ameero se he. (ibn e Kathir, ibn e Jozi, Durrul Mansoor) 

    Yani shayateen se kafiro ke ameer log murad hein. Hazrat ibn e Abbas ne isse yahood ke sardaro ko tabeer kiya. 


    Imam Bedhawi farmate hein

 اِنَّا مَعَكُمْۙ

(Hum tumhare sath hein) yani deen aur aqeede me. 

  Unhone yani munafiqin ne musalmano ko khitab kiya (hum imaan laye) aur shayateen yani kuffar se kaha (beshak hum tumhare sath hein) isliye ki pehle jumle se unhone imaan lane ka sirf daawa kiya tha aur dusre jumle me is bat ko sabit kiya he jis par wo haqiqat me the. (Talkhees Bedhawi) 


اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(15)

Allah unki hansi mazaq ka unhe badla dega aur wo unhe mohlat de rha he ki ye apni sarkashi me bhatakte rahein. 


    

Hazrat ibn e Abbas, Allah rabbulizzat ke is qoul 

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ 

ke bare me farmate hein ki Allah unhe sazaa par majboor karta he. (ibn e abi Hatim) 

Pichli aayat e kareema me zikr kiya gaya munafiqeen kehte hein ki

 اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ 

(Hum to mazaq karne wale hein) to Allah rabbul izzat ne unke is qoul ke rad me farmaya 

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ 

(Allah unse istihza farmata he)

Allah ne

 اَللّٰهُ مُسْتَهْزِئُ بِهِمْ 

(Allah ne istihza ki) nahi farmaya, iski wajah imam Razi bayan karte hein ki "aisa isliye he ki us (Allah) ki istihza har haal me badalti rehti he aur waqt ke sath nayi hoti rehti he to isi tarah unke liye Allah rabbul aalameen ka azaab he, jesa ki Allah ne farmaya, "kya wo nahi dekhte ki saal me ek ya do bar unhe azmaish me mubtila kiya jata he. " (126 :التوبة) (Talkhees : Razi)

    Imam Nasafi farmate hein beshak Allah rabb e qadeer ki istihza bahut baleegh (asar andaz) he wo unki istihza ki misl nahi he jesa ki usne in munafiqeen ke upar azaab e zillat aur ruswaayi nazil ki. 

    Hazrat ibn e Abbas is quol k bare me frmate he

فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ  

yani wo apne kufr me bhatakte rahe. (ibn e Kathir, Tabri, Durrul Mansoor, ibn e abi Hatim) 

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى۪-فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ(16)


    Yahi hein wo log jinhone hidayat  ke badle gumrahi khareedi to unki tijarat ne koi faida nhi diya aur ye log raah jante hi nahi the. 

Tarteeb:

     Jinke bare me surat ul fatiha me farmaya tha ki hume gumrahi wale raaste se bachaa. 

     Hazrat ibn Masood farmate hein ki unhone gumrahi ko le liya aur hidayat ko tark kar diya. (Durrul Mansoor, ibn e Kathir, Tabri) 

    Hazrat qataada is 

فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ  

ke bare me farmate hein : Allah ki qasam tumne unhe dekha ki wo hidayat se gumrahi ki taraf, jama'at se firqe ki taraf, aman se khof ki taraf aur sunnat se bid'at ki taraf nikle to isi ko farmaya ki unki tijarat ne unhe koi faida nahi diya aur wo hidayat pane walo me se nahi the. (ibn e abi Hatim, Fathul Qadeer, ibn e Kathir, Tabri, Durrul Mansoor)

Thursday, 5 January 2023

Surah albaqarah ayat 8 to 12

 

بسم الله الرحمن الرحيم
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَﭥ(8)
Aur kuch log kehte hein hum Allah par akhirat par eeman le aaye halanki wo eeman wale nahi hein.
Hazrat Abdurrazzaq ne Hazrat Qatada se takhreej ki Allah rabbulizzat ke is qoul ke baare me "وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ yahan tak ke is aayat par pahunche وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ farmaya ye munafiqeen ke baare me he". (Tabri, DurrulMansoor) 

  Imam mujahid farmate hein, "beshak Allah ne pehli 4 aayato me momineen ka zikr kiya fir agli 2 aayato me kaafiro ka zikr kiya fir 13 aayato me munafiqeen ka zikr kiya aur ye is par daleel he ke munafiq sabse zyada jurm wale hein. "
    Is hadith ko imam Nasafi, Qurtbi aur Tabri ne bhi bayan kiya
  
  :  Tarteeb
       Imam Bedhawi farmate hein, "jab Allah ne kitab ke haal ki tashreeh ko shuru kiya aur uske bayan ke baad momineen ka zikr kiya jinhone Allah ke liye apne deen ko khalis kar diya aur unke dil unki zabaano ke mutabiq rahe, uske baad unke opposite logo ka zikr kiya, jinhone zahiri aur baatini tor par kufr kiya aur unhone iski taraf(jo Allah ki taraf se nazil hua) bilkul iltifat nahi kiya fir teesri qism bayan ki, jo in dono ke darmiyan muzabzab he, ye wo log hein jo apni zabaano se imaan laye aur unke dil imaan nahi laaye
   Isi tarah imam Nasafi aur Razi ne bayan kiya

    Yaani Allah rabbul aalamin ne pehle kitab ke maqsad ko wazih kiya ke ye kitab kitab e hidayat he uske baad is hidayat ke mutabiq insano ki aqsam ko bayan kiya ke wo 3 qism ki hein, first wo jo Allah ki nazil ki hui har baat par imaan laye aur imaan dil ki kaifiyat he aur usi ka izhaar unhone zabaan se kiya, dusre wo jinhone sire se inkar kar diya yaani kufr kiya aur teesre logo ki jab sifat bayan ki to ye nahi kha ke wo imaan laye balki farmaya wo log apni zabaan se kehte hein ki  hum imaan laye aur isse unka kya maqsad he agli ayat me bayan farmaya.

    یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَﭤ(9)

    Ye log Allah ko aur imaan walo ko dhoka dena chahte hein halanki ye sirf apne aap ko dhoka de rahe hein halanki inhe shaoor (aqal) nahi
     

Ibn e abi Hatim aur ibn e Jurej ne takhreej ki is qoul  یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ (Allah ko dhoka dene) ke baare me farmaya wo لااله الا الله (yani imaan) ka izhar karte hein aur unka irada hota he ke unki jaane aur unke maal mahfooz rahe aur unke dilo me iske alawa he (yani wo musalmano ke samne eemaan ka izhar isliye karte hein k unke jaan o maal jihad me musalmano se mehfooz reh sakein) . (Durrul Mansoor)
    
  Allah ko dhoka dene se kiya murad he yaha kayi mufassireen ne ek hi baat kahi
  
Imam Razi farmate hein Zajjaj ne kaha, "beshak wo log Allah ke nabi ko dhoka de rhe the to Allah ne apne nabi ko apna qaim maqam banaya jis tarah is aayat me he
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ
  Wo jo tumhari bait karte hein wo to Allah hi se bait krte hein. (صلى الله عليه وسلم)
     Isko imam Nasafi, Bedhawi aur ibn e Jozi ne bhi bayan kiya
    Ab munafiqeen ki batni or zahiri sifat bayan ki
فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ-فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(10)
Unke dilo me bimari he aur Allah ne unki bimari aur badhayi aur unke liye dardnaak azab he badla unke jhoot ka
Abd ibn e Humed aur ibn e Jareer ne hazrat Qatada se takhreej ki فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ (unke dilo me bimari he) is qoul ke baare me farmaya ye Allah ke Muamle me shak o shubah he فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ (to Allah ne unki bimari or badhayi) farmaya, shak aur shubah (yani marz se shak murad he)
وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ
(unke liye dardnak azab he badla unke jhoot ka) farmaya jhoot se bacho beshak ye nifaq se he aur khuda ki qasam hamne koi amal jo bande ke dil ke fasad me zyada ho jhoot aur takabbur se badh kar nahi dekha. (Durrul Mansoor)

    Isi tarah imam Mujahid, Hasan, Ikrima rabii bin Anas aur Abdullah ibn e Abbas se alag alag tafaseer me riwayat naqal he
     
Imam Nasafi farmate hein, mareez zindagi aur maut ke darmiyan mutaraddid rehta he isliye ke marz sehat ke opposite he aur fasaad sehat ka muqabil he to marz har fasaad ka naam he aur shak aur nifaq ye dil ka fasaad he
      Jo insaan ke dil me hota he wo isi ke mutabiq amal karta he
    وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(11) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰـكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(12)
Aur jab inse kaha jaye fasaad na karo to kehte hein hum to sirf islaah karne wale hein.Sun lo, wahi fasaadi hein magar unhe sha'oor nahi

Hazrat abil alia is quol
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ
(jb inse kaha jaye zameen par fasad na karo) k bare me farmate hein yani zameen par maasiyat (gunah) mat karo aur unka fasaad Allah ki nafrmani tha isliye k jisne zameen par Allah ki nafrmani ki ya uski nafrmani ka hukm diya usne zameen me fasaad kiya isliye k zameen aur asmaan ki islah ita'at(farmabardari) me he. (Ibn Abi hatim)
Imam Tabri ne rabii bin anas se yahi hadith bayan ki
   Ibn e Ishaq o ibn e Jareer aur ibn e Abi Hatim ne hazrat Abdullah ibn e Abbas se takhreej ki is qoul ke baare me  اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ yaani hum to dono giroho momineen aur ahl e kitab me sulah karana chahte hein.(Durrul Mansoor)
     Is hadith ko ibn e Kathir, Tabri aur Fathul Qadeer ne bhi bayan kiya
      Munafiqeen ki jo sifat quran e karim ne byan ki wo ye k wo zabaan se eemaan ka dawa karte hein aur unke dilo me shak he aur isi shak ki buniyad par wo eemaan aur kufr k bare me tazabzub ka shikar hein aur dono fareeq ko ek karne ki koshish karte hein. Aaj bhi aapko  kuch aise log mil jayenge jo kuffar se bada dili lagao rakhte hein aur eemaan ke dawedar hein halanki nabi e kareemصلى الله عليه وسلم ne farmaya, teen khaslate jisme ho usne eemaan ki mithaas ko pa lia wo ye ki uske nazdeek Allah aur uska Rasool her cheez se zyada mehboob hon wo kisi shakhs se Allah hi ke liye muhabbat kare aur ye ki wo kufr ki taraf lotne ko is tarah napasand kare jis tarah aag me dale jane ko napasand karta he. (bukhari)
     
     Abu jafar ne kaha "Allah taala ne yahood se dushmani ko aur unke sath musalmano ki jang ko farz kiya aur unke upar Rasoolallah صلى الله عليه وسلم aur jo aap Allah ki taraf se lekar aye us ki tasdeeq ko lazim kiya jis tarah momineen par is cheez ko lazim kiya to unka yahood se muhabbat rakhte huye mulaqat karna aur Rasoolallah صلى الله عليه وسلم ki nubuwwat me aur jo unki taraf nazil hua shak karna sabse bada fasaad he agarche ye unke nazdeek unke deen me ya momineen aur kafiro ke beech hidayat aur islah ho to Allah rabbulizzat ne farmaya;
  اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰـكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
sun lo beshak yahi log fasaad phelane wale hein lekin unhe iska sha'oor 

nahi. (Talkhees, Tabri)


Unka zameen pr fasad kya tha jis trh hmne upr hadith byan ki usi ki taeed agli ayat e karima krti he

                         Continue....