Thursday, 2 March 2023

    1.  سورہ فاتحہ کا آغاز

     آخری بلاگ میں ہم نے سورۃ الفاتحہ کو پہلے رکھنے کی حکمت پر بات کی تھی۔ آئیے اب سورۃ الفاتحہ کو آیت کی ترتیب کے مطابق شروع کرتے ہیں۔ اس سے پہلے میں ایک بات کہنا چاہونگی کہ میں جو بھی کچھ آیات کی ترتیب کے اعتبار سے بیان کرونگی، بزرگ علماء کی مستند کتابوں سے ہوگا۔ اپنے پاس سے صرف کچھ چیزوں کی وضاحت کی جائے گی کیونکہ سورۃ الفاتحہ میں ان لوگوں کے پیچھے چلنے کی تعلیم دی گئی ہے جن پر اللہ کا انعام ہوا اور یہی سیدھا راستہ


 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ

 میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں نکلے ہوئے شیطان سے۔



     قرآن کریم میں ہے، "جب تم قرآن پڑھو تو نکلے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو۔"  98: النحل

   تفسیر ابن کثیر میں اس کی حکمت کے بارے میں کہا گیا ہے؛ "کہ اعوذ منھ کے لیے پاکی ہے جو انسان کے منھ سے بیکار اور بیہودہ باتیں نکلتی ہیں اور تلاوتِ کلامِ الٰہی کے لیے تیاری اور اللہ کی طرف سے اس پر مدد چاہنا اور اپنی بندگی اور نا قدری (نااہلیت) کو قبول کرنا اس باطنی دشمن (اندرونی دشمن) کے مقابلے میں سواے اسکے کہ اللہ مدد فرمائے۔



    امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ "اعوذ ان اعمال اور عقائد سے بچنے کی طرف اشارہ ہے جن سے منع کیا گیا"۔




 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحمت والا ہے۔


 ابو جعفر محمد ابن علی سے حدیث نقل ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہر کتاب کی کنجی (چابی) ہے"۔  

(تفسیر در منصور)


       امام بیضاوی فرماتے ہیں: "اللہ نے فرمایا بِسْمِ اللّٰهِ (اللہ کے نام سے شروع) تاکہ اس کے نام کے ذکر سے اس کے نام کی برکت اور مدد حاصل ہو"۔

  (تفسیر بیضاوی)



       ابی الشعثه جابر ابن زید سے بِسْمِ اللّٰهِ کے بارے میں بیان کرتے ہیں؛ "اسم (نام) اللہ اسم اعظم ہے کیا تم نہیں دیکھتے خالص قرآن میں ہر اسم سے پہلے یہی نام پاک آیا ہے."

 (تفسیر ابن ابی حاتم)
       یعنی قرآن عظیم کو اسم اعظم سے شروع کیا گیا۔



 امام رازی رحمۃ اللہ علیہ اس کی ترتیب میں فرماتے ہیں؛ "تسمیہ (بِسْمِ اللّٰهِ) اشارہ ہے نیک اعمال اور عقائد کی طرف"۔




    تقریبن اکثر تفاسیر میں احادیث کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے، "نام الرَّحْمٰن یعنی دنیا و آخرت میں اور خاص مومنین (مسلمانوں) پر رحم کرنے والا۔ اس لئے رحمٰن کو پہلے اور رحیم کو بعد میں رکھا گیا ہے۔





 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (1)

 سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں (دنیا) کا پیدا کرنے والا ہے۔



        انسانی فطرت میں اللہ کی پہچان کی طرف ایک احساس رکھا گیا ہے جب وہ اس جہاں کو دیکھتا ہے تو کہیں نہ کہیں وہ خدا کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ کوئی ہے جو اس دنیا کو چلا رہا ہے۔  بس اسی احساس یا سوال کا جواب قرآن مقدس کی یہ پہلی آیت کریمہ کس شان سے دے رہی ہے وہ اللہ ایک عالم کا پروردگار نہیں بلکہ حضرت ابی العالیہ سے حدیث مروی ہے کہ انسان ایک عالم (تخلیق) ہے جن ایک عالم اور اس کے علاوہ فرشتوں کے اٹھارہ ہزار یا چودہ ہزار زمین پر عالم ہیں اور زمین کے چار زاویے (کونے) ہیں اور ہر کونے پر تین ہزار پانچ سو عالم ہیں۔ جن کو اللہ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا

وہ اللہ ان سب کا پروردگار ہے ۔ 
(ابن کثیر، طبری)



      تو یہ ہے اس اللہ کی شان جو اس کریم کے کلام سے ظاہر ہو رہی ہے۔ حدیث قدسی میں ہے، "میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کے میں پہچانا جاؤں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا"۔  

(الفتوحات المکیہ)



     جب آپ کسی چیز کی تعریف کرتے ہیں تو وہ اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے۔  (نعیمی)

 اور اللہ وہ ہے جس نے نہ صرف پیدا کیا بلکہ اس کی پرورش فرما رہا ہے۔



     حضرت عبد اللہ ابن عباس سے مروی ہے، "رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یعنی مخلوق کا خدا؛ "سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو مالک ہے ساری مخلوق کا، آسمان اور زمین کا، جو کچھ اس کے اندر ہے اور جو کچھ اس کے بیچ میں ہے  جس کو ہم جانتے ہیں یا جسکو نہیں جانتے۔  

(ابن کثیر، ابن جوزی، فتح القدیر)



    امام رازی فرماتے ہیں: "اللہ رب العزت نے اس سورت میں اپنے پانچ ناموں کا ذکر کیا اللہ، رب، رحمٰن، رحیم اور مالک۔ جیسے کہ وہ فرما رہا ہو میں نے تجھے پہلے پیدا کیا تو میں تیرا خدا ہوں پھر میں نے احسان کرتے ہوئے تجھے پالا تو میں تیرا رب ہوں پھر تو نے خطا کی تو میں نے اسے چھپایا تو میں رحمٰن ہوں پھر تو نے توبہ کی تو میں نے اسے بخش دیا تو میں رحیم ہوں پھر ضروری تھا تجھے جزا (بدلے) کی طرف لوٹانا تو میں مالک یوم الدین ہوں ۔

(تفسیر کبیر)



 


        الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (2)

 بہت مہربان رحمت والا

   مخلوق کی پرورش کی وجہ کیا ہے "رب العالمین میں موقع تھا کے شاید وہ پالنے پر مجبور ہے تو یہاں فرمایا، "نہیں وہ صرف اپنی رحمت سے پالتا ہے"۔ 

 (نعیمی)

 

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا اور وہ اپنی ذات کے بارے میں لکھتا ہے جو اس کے پاس عرش پر لکھی ہوئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے"۔  
(بخاری، مسلم) 


    مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ (3)

 جزا (بدلے) کے دن کا مالک 

    حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ یعنی وہ دن جس دن بندو کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا"۔  

(در المنصور، طبری، فتح القدیر)

    فتح القدیر اور طبری میں ابن جریج سے روایت ہے،  "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ" یعنی جس دن لوگون کو انکے بدلے کا حساب دیا جائے گا۔



                                                                بیضاوی اور نسفی میں ہے،  "یَوْمِ الدِّیْنِ کا مطلب بدلے کا دن ہے اور یہ "كما تدين تدان" (جیسا کروگے ویسا بھروگے) سے ہے۔"



      اب اس کی شان اس طریقے سے بیان کی کہ یہ وضاحت ہو جائے کہ یہ مخلوقات (دنیا) کا آخر ہے۔ 

(خزائن العرفان) 
تو مقصد قرآن کیونکہ اللہ کی پہچان ہے تو "اسے یا تو پروردیگار سمجھ کر مان لو یا اس کی رحمت کو دیکھ کر مان لو ورنہ ایک دن ایسا مقرر کیا گیا ہے کہ ماننا ہی پڑے گا"



      رحمت کا یہ مطلب نہیں کہ جو چاہو کرو یا اس کہ خدا ہونے کا ہی انکار کرو بلکہ اس دن اس کی بادشاہت ظاہر کر دی جائے گی۔


 

      یہ توازن آپ کو پورے قرآن میں نظر آئےگا جہاں رحمت کا ذکر ہوگا وہاں عذاب کا بھی ذکر ہوگا۔


اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ (4)


    ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔




 اب اللہ کی حمد اس شان سے بیان کرنے کے بعد کہ وہ ہی حقیقتاً عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ رب ہے، رحمٰن ہے، رحیم ہے۔ بندو کو تعلیم دی کہ وہ اپنے سر کو اسی ایک بادشاہِ حقیقی کے آگے جھکائیں اور اس عظیم دن کے لئے اسی سے مدد چاہیں جس دن وہ حق دین کا فیصلہ فارمائیگا۔


       حدیث:

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا, اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے نماز  کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان بانٹ لیا ہے۔ آدھا میرے لئے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے۔ جب میرا بندہ کہتا ہے، "اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن" تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔ جب وہ کہتا ہے، "الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" تب وہ کہتا ہے اس نے میری ثنا بیان کی۔ جب وہ کہتا ہے، "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ" تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ جب وہ کہتا ہے، "اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ" تو اللہ فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ جب وہ کہتا ہے، 
 "اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ"
 تو اللہ فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔  (صحیح مسلم)


 امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، "اِیَّاكَ نَعْبُدُ" ثنا (تعریف) ہے اور ثنا غیبت میں بہتر اور "اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ" دعا ہے اور دعا حضوری میں بہتر ہے۔

     بندہ جب اللہ کے قریب ہونے کے لیے نماز پڑھتا ہے تو وہ نیت کے بعد اللہ کی ثنا بیان کرتا ہے، پھر جب وہ اللہ کے کرم سے قربت کے مقام تک پہنچتا ہے، تو وہ غیب کے مقام سے حضوری کے مقام میں داخل ہو جاتا ہے۔ 
     اس کی ایک وجہ امام رازی نے یہ بیان کی۔ کہ اللہ کی عبادت، اس کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
(کبیر) 



     تفسیر نسفی میں ہے، عبادت کو استعانت سے پہلے اس لئے رکھا گیا ہے کہ حاجت سے پہلے وسیلہ لانا قبولیت کے زیادہ قریب ہے۔

          اسی طرح امام بیضاوی نے بیان کیا۔



 حضرت قتادہ فرماتے ہیں، "اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ" وہ (اللہ) تمہیں حکم دیتا ہے تم اس کی عبادت کرو اور اپنے کاموں میں اس سے مدد چاہو۔  

(ابن کثیر)
       ابن کثیر کہتے ہیں کہ "اِیَّاكَ نَعْبُدُ" کو "وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ"  سے پہلے اس لئے رکھا گیا کیونکہ عبادت اصل مقصد ہے اور استعانت اس پر وسیلہ ہے۔  
(تفسیر ابن کثیر)
   

 

     مفتی احمد یار خان صاحب نے اس کی ایک وجہ یہ بیان کی کہ کسی کام میں مدد چاہتے ہیں تو وہ اگلی آیت میں ہے۔


   اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ (5)صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ (6) غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ (7)

 ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔  راستہ ان کا جن پر تو نے انعام فرمایا نہ کہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔

      تفسیر طبری میں ہے "صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ" وضاحت ہے صراتِ مستقیم کی کہ وہ کون سا راستہ ہے حالانکہ ہر وہ راستہ جو حق کا راستہ ہے صراتِ مستقیم ہے۔ 


          حضرت علی اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود اور کئ طریقوں سے یہ روایت بیان ہوئی کہ صراتِ مستقیم اللہ کی کتاب ہے۔

(ابن جوزی، فتح القدیر، در منصور، طبری)

      محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ اے حبیب فرمایئے، ہمارے رب ہمیں سیدھے راستے پر چلا راستہ ان کا جن پر تو نے انعام کیا اپنی عبادت اور اطاعت کی وجہ سے۔  

(طبری)



    انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟؟

       امام بیضاوی اور نصفی نے بیان کیا کہ انعام یافتہ لوگ وہ ہیں جو غضب اور گمراہی سے بچے ہوئے ہیں۔
     اِسی طرح کا مفہوم امام طبری نے بیان کیا ہے۔
    
      امام رازی فرماتے ہیں غضب یافتہ لوگ کافر ہیں اور بہکے ہوئے (گمراہ) لوگ منافق۔
     اور یہ اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ بقرہ (جو کی اس سے اگلی سورت ہے) کی پچھلی پانچ آیتوں میں مومنین (انعام یافتہ بندو) کا ذکر کیا اس کے بعد کافروں کا ذکر کیا پھر منافقوں کا۔  
(تفسیر کبیر) 

      اسی طرح امام طبری نے امام مجاہد سے روایت کیا۔

(تفسیر طبری) 

        یہ ہے ان آیتوں کے درمیان تعلق جو ہم نے تفسیر کی کتابوں سے بیان کیا۔ انشاءاللہ اگلے بلاگ میں سورۃ البقرہ کے بارے میں بیان کیا جائے گا۔


           جاری رہےگا.....

      

No comments:

Post a Comment