وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(23)
اور اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پر نازل کی ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ اور اللہ کے علاوہ اپنے سب مددگاروں کو بلا لو اگر تم سچے ہو.
جب اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کو ثابت کرنے اور شرک کو باطل قرار دینے پر دلیل قائم کردی تو اس کے بعد نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر حجت قائم کی, جو قرآن کے معجزہ ہونے کے شک کو دفعہ کر دے تو ان کو چیلنج کیا گیا ہے کہ قرآن کی سورتوں میں سے کوئ ایک سورت کی مثل لے آئیں. (فتح القدیر)
اس جگہ اللہ کریم نے نزلنا کا لفظ ذکر فرمایا جس کا معنی تھوڑا تھوڑا حسب واقعہ نازل کرنا ہے۔ اور ایسا کلام خطیب اور شاعر پیش کرتے ہیں۔ اور یہ چیز بھی عرب کے فصحاء کو قرآن کریم میں شک کا سبب بننے والی چیزوں میں سے تھی۔ جس طرح اللہ کریم نے خود ذکر فرمایا ہے، اور کافروں نے کہا کہ یہ قرآن یکبارگی نازل کیوں نہ کیا گیا۔(الفرقان :32) تو اس کی کیا وجہ ہے؟
امام نسفی فرماتے ہیں ۔قرآن میں اختیار کیا گیا۔ جو خطباء اور اہل شعر کا ہوتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا موقعہ بموقعہ اپنا کلام لاتے ہیں نظم کرنے والا اپنا دیوان یک بارگی پیش نہیں کرتا۔ اور نہ نثر کو اپنا خطبہ ایک بار کہہ ڈالتا ہے۔ اس پر کفار کو کہا گیا کہ اگر تمہیں اس میں شبہ ہے کہ اس کا اتارنا اس تدریج سے کیوں ہے؟ تو فأتوا بسورة ( تو لاؤ ایک سورت ) تو تم ایک بار کے مقابلہ میں ایک بار بنالاؤ اور ایک ٹکڑا کے مقابلہ میں ٹکڑا لے آؤ ۔ اور اس کی سورتوں میں سے کوئی انتہائی چھوٹی سورت بنا لاؤ۔(نسفی)
نَزَّلْنَا
اَنزَلنا کی بجائے نَزَّلْنَا فرمايا کیونکہ تدریج وتنجیم سے اتارنا مراد ہے اور چیلنج کے موقعہ پر یہی مقابل بنتا ہے۔
امام بیضاوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جو ان کے شک کا منشا تھا اس کے مطابق ان کو چیلنج کرنا واجب تھا۔ تاکہ ان کے شک کا ازالہ ہو جائے ۔ اور ان پر دلیل بن جائے اور یہاں اللہ کریم نے عبد کی نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی ہے تاکہ اس کے ذکر کرنے سے آپ کی عظمت شان کا اظہار ہو اور اس بات پر تنبیہ ہو کہ اللہ کریم کے محبوب کا اس کی ذات کے ساتھ خاص تعلق ہے اور آپ اس کے حکم کے فرمانبردار اور مطیع ہیں۔(بیضاوی)
امام رازی کہتے ہیں ہر شاعر کا کلام کسی ایک فن میں کمال پر ہوتا ہے جبکہ اس فن کے علاوہ میں اس کا کلام کمزور ہوتا ہے لیکن قرآن تمام فنون کے اعتبار سے فصاحت کے آخری درجہ پر ہے.
یعنی قرآن میں خوف و خشیت کے بارے میں جتنی فصاحت ہے وہیں امید و رجاء کے بارے میں بھی کمال فصاحت ہے قصوں کے بیان میں اعلی درجہ کی فصاحت اور عمدہ درجہ کی نصیحت ہے.
قرآن تمام علوم کی اصل ہے، علم کلام سارا کا سارا قرآن میں ہے علم فقہ اسی طرح علم اصول فقہ، نحو ولغت کے علوم، زھد دنیا اور آخرت کی خبریں، مکارم اخلاق کا استعمال الغرض سب کچھ قرآن
میں ہے. (کبیر)
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۚۖ-اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ(24)
پھر اگر تم یہ نہ کر سکو اور تم ہرگز نہ کر سکوگے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔ وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
جب ان کی رہنمائی اس جہت کی طرف کر دی، جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کی سچائی پہچان سکیں تو انہیں فرمایا اگر تم مقابلہ نہ کر سکو، اور تمہاری عاجزی ظاہر ہو جائے تو پھر (اصولاً ) اس کی تصدیق واجب ہو گئی۔ پس تم ایمان لاؤ۔ اور اس عذاب سے ڈر جاؤ۔ جو اس کے مکذبین اور معاندین کے لیے تیار کیا گیا ہے۔(بیضاوی)
آیت میں آگ سے بچنے کے لیے اس جیسی سورۃ کے لانے کی نفی کرنا شرط قرار دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ نہ لائے تو معارضہ سے ان کی عاجزی خوب ظاہر ہو گئی ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی ثابت ہو گئی ۔ پھر انہوں نے عناد کو لازم کر کے آپ کی اطاعت سے انکار کر دیا۔ جس کی بناء پر انہوں نے آگ کو اپنے لیے واجب کر لیا۔ پس انہیں کہا گیا۔ اگر تمہاری عاجزی ظاہر ہوگئی ہے تو عناد کو ترک کرو، اس کی بجائے۔ فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتي : ( پس تم بچو اس آگ سے) کہہ دیا۔ اس لئے کہ آگ سے بچنا عناد کو ترک کر دینے کے سبب ہی ہو سکتا ہے۔(نسفی)
وَقُود: ایندھن، جس سے آگ جلائی جائے۔
وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ۔۔۔
اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں.
جب لوگ باقی آگوں میں کسی کو جلاتے ہیں یا پتھر کو گرم کرتے ہیں تو پہلے کسی ایندھن سے آگ جلاتے ہیں اور اس شی کو جلانے کے لئے پھینکتے ہیں (اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا صدقہ اس سے ہمیں اپنی پناہ میں لے لے) یہ آگ تو جل ہی اس سے رہی ہے جس کو جلانا ہے یعنی انسان ایندھن بنے گا۔(کبیر)
وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًاۙ-قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُۙ-وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاؕ-وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌۗۙ-وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(25)
اور ان لوگوں کو خوشخبری دو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ۔جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے دیا گیا تھا حالانکہ انہیں ملتا جلتا پھل (پہلے )دیا گیا تھا اور ان (جنتیوں )کے لئے ان باغوں میں پاکیزہ بیویاں ہونگی اور وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ تعالی نے کفار کی جزا کے ذکر کے بعد مومنین کی جزا کا ذکر کیا. (قرطبی)
امام طبری فرماتے ہیں کہ ابو جعفر نے کہا بشِّر یعنی انہیں خبر دیجئیے.
یہ اللہ کی طرف سے نبی مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ وہ اللہ کی بشارت اللہ کی اس مخلوق تک پہنچا دیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ پر، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس پر جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے پاس سے لیکر آئے اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے اس ایمان اور اقرار کو اپنے اعمال صالحہ کے ذریعہ سے ثابت کرتے ہیں.
آپ علیہ الصَّلٰوةَ والسلام سے کہا گیا کہ اے محبوب! خوشخبری دو ان کو جنہوں نے آپ کی تصدیق کی کہ آپ اس کے رسول ہیں، اور جس ہدایت اور نور کو آپ لیکر آئے ہیں وہ میری (یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی) جانب سے ہے. (طبری)
امام رازی فرماتے ہیں حصول لذت کے تین مقامات ہیں مسکن (رہنے کی جگہ)، مطعم (کھانا)، نکاح.
مسکن کے لئے فرمایا ایسے باغات جن کے نیچے نہریں بہیں، مطعم کے لئے رزق کا بیان کیا اور نکاح کے لئے پاکیزہ بیویاں. ان اشیاء کے حصول کے بعد اگر زوال کا خوف بھی ہو تو خوشی کڑوی ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے خوف کو بھی زائل کر دیا کہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے. (کبیر)
امام ابن مردویہ، ابونعیم ، الضیاء المقدسی ان دونوں نے صفة الجنۃ میں حضرت انس سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تم یہ خیال کرتے ہوگے کہ جنت کی نہریں کھائیوں میں زمین کے اندر چلتی ہیں قسم بخدا نہیں وہ سطح زمین پر چلتی ہیں اس کے کنارے موتیوں کے خیمے ہیں ، اور اس کی مٹی اذفر کستوری ہے میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذفر کیا ہے فرمایا جس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہو۔(در المنثور)
ابن ابی الدنیا اور الضیاء اور ابن مردویہ نے ابو موسیٰ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کی نہریں جنت عدن سے اکھٹی نکلی ہیں پھر مختلف نہروں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔(در المنثور)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جب انہیں اس سے عطا کیا جائے گا۔ ( آلایہ )
امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور کئ دوسرے صحابہ سے كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًاۙ کی تفسیر روایت کی ہے کہ جب انہیں جنت میں پھل دیا جائے گا تو وہ اس کو دیکھ کر کہیں گے یہ تو ہمیں اس سے پہلے دنیا میں دیا گیا ہے ان کو جو جنت میں پھل ملے گا وہ رنگ اور دیکھنے میں دنیا کے پھل کے مشابہ ہوگا لیکن ذائقہ میں اس کے مشابہ نہیں ہو گا. (در المنثور،ابن کثیر، طبری، فتح القدیر)
وکیع عبد الرزاق اور ہناد نے الزہد میں، عبد بن حمید ، ابن جریر نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ اہل جنت کی بیویاں حیض، بول، براز، رینٹ، کھنکار تھوک منی اور بچے سے پاک ہوں گی (ابن کثیر، در المنثور، طبری )
امام احمد، بخاری، مسلم اور بیہقی نے البعث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، صحابہ کرام آپس میں تذکرہ کر رہے تھے کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟ تو ابو ہریرہ نے فرمایا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ہر جنتی کے لیے دو بیویاں ہوں گی اور اور ستر جوڑوں کے پیچھے سے انکی پنڈلیوں کا گودا نظر آئے گا۔ اور جنت میں کنوارا کوئی نہیں ہو گا ۔(در المنثور، مسلم، بخاری، احمد)
ابن السکن نے المعرفہ میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حاطب بن ابی بلتعہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جنت میں مومن کا بہتر عورتوں سے نکاح ہوگا۔ ستر آخرت کی عورتیں ہونگی اور دو دنیا کی عورتیں ہونگی۔(در المنثور)
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَاؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًاۘ-یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًاۙ-وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًاؕ-وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ(26)
بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کے لئے کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر۔ بہرحال ایمان والے تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور رہے کافر تو وہ کہتے ہیں ، اس مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ اللہ بہت سے لوگوں کو اس کے ذریعے گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت عطا فرماتا ہے اور وہ اس کے ذریعے صرف نافرمانوں ہی کو گمراہ کرتا ہے۔
امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور کئی دوسرے صحابہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں اللہ تعالی نے منافقین کے ِلیے كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَاراً اور اَو کَصیّبٍ مِنَ السّماء کے ساتھ مثالیں بیان فرمائیں تو منافقین نے کہا اللہ تعالی ایسی امثال بیان کرنے سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت مذکورہ آیات نازل فرمائیں. (در المنثور)
ابن کثیر، طبری، آلوسی، ابن جوزی نے اس حدیث کو دوسرے طرق سے بیان کیا.
جب گزشتہ آیات میں مختلف قسم کی امثال بیان کیں اس کے بعد ان مثالوں کی خوبی کو بیان کیا۔ (بیضاوی)
جب انسان معنی ذکر کرتا ہے۔ تو اس پر بات کما حقہ واضح نہیں ہوتی جب اس کی مثال سامنے
آجائے تو وہ خوب واضح و آشکار ہو جاتا ہے۔ جب مثال دینا، بیان و وضاحت میں مفید ہے تو اس کتاب مقدس میں اس کا تذکرہ ہوگا جس کا مقصد ہی وضاحت و بیان ہے۔ رہا ان کا یہ سوال کہ ان حقیر اشیاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا مثالیں بیان کرنا مناسب نہیں ، یہ سراپا جہالت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہی صغیر و کبیر کو پیدا کیا ہے اور ہر مخلوق میں اس کا حکم عام ہے اس لیے کہ تمام کو اس نے پختہ کیا تو صغیر کسی کبیر سے اخف نہیں اور عظیم کسی صغیر سے مشکل واصعب نہیں جب تمام بمنزل واحد ہیں تو کبیر کو صغیر پر کسی طرح بندوں کیلئے مثال بنانے میں اولویت نہیں بلکہ قصہ میں مناسب کا اعتبار ہوگا، جب اس کے مناسب مکھی اور مکڑی ہے تو انہی کی مثال بیان ہوگی نہ کہ ہاتھی و اونٹ کی تو جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بتوں کی عبادت اور عبادت رحمن سے ان کی دشمنی کی شناعت و قباحت کے بیان کا ارادہ فرمایا تو مکھی کی مثال ہی مناسب تھی کہ ان بتوں سے مکھی کے نقصان کا ازالہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور بیت العنکبوت کی مثال دی تاکہ آشکار ہو جائے کہ ان بتوں کی عبادت اس سے بھی کمزور و اضعف ہے، ایسی مثال میں، جس کی مثال دی گئی ہو وہ اضعف ہوتا ہے جبکہ مثال اقویٰ واضح ہوگی۔(کبیر)
امام عبد بن حمید، ابن جریر نے حضرت مجاہد سے اس آیت سے متعلق یہ نقل کیا ہے کہ مومنین اس مثال پر ایمان لاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں ایسی مثالوں کے ذریعے ہدایت دیتا ہے اور فاسق اس کو جانتے ہیں پھر کفر کرتے ہیں(در المنثور،طبری، فتح القدیر)
ٱلَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهۡدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مِیثَـٰقِهِۦ وَیَقۡطَعُونَ مَاۤ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦۤ أَن یُوصَلَ وَیُفۡسِدُونَ فِی ٱلۡأَرۡضِۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡخَـٰسِرُونَ(27)
وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔
یہ فاسقین کی صفت ہے اور ان کی مذمت اور ان کے فسق کی پختگی کے لئے لائی گئی ہے۔(بیضاوی)
) وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ الله اور اس سے بے حکم ہی گمراہ ہوتے ہیں جو اللہ کے عہد کو کرنے کے بعد توڑتے ہیں) واضح کر رہا ہے کہ اللہ تعالی گمراہی ان پر اس وقت مسلط کرتا ہے جب وہ اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ کر نافرمان بن جاتے ہیں، اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ ان کا گمراہ ہونا ان کے فاسق اور ناقض عہد ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ گمراہی، ان کے فسق و نقض عہد کی بنا پر ہے. (کبیر)
حضرت سدی اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں (ٱلَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهۡدَ ٱللَّهِ وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں) یہ وہی عہد ہے جو اللہ کریم نے ان سے قرآن مجید میں فرمایا، تو انہوں نے اس کا اقرار کیا پھر اس سے کفر کیا تو اس کو توڑ دیا. (ابن کثیر، ابن جوزی، ابن ابی حاتم)
اسی کے مثل ربیع بن انس اور ابی العالیہ سے روایت ہے.
(من بعد ميثاقه۔۔۔ اپنے عہد کو پختہ کرنے کے بعد) ۔ میثاقہ کی ضمیر کا مرجع لفظ عہد سے ہے اور میثاق ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کے ذریعے استحکام حاصل ہوتا ہے اور یہاں میثاق سے مراد وہ آیات اور کتابیں ہیں جن کے ساتھ اللہ کریم نے اس عہد کو پختہ کیا یا اس سے مراد وہ چیزیں ہوں گی جن کے ذریعے بندوں نے اس عہد کو پختہ کیا یعنی اس کو لازم پکڑنا اور اس کو قبول کرنا ہے
وَیَقۡطَعُونَ مَاۤ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦۤ أَن یُوصَلَ۔۔۔
یہاں قطع سے ہر وہ قطع تعلقی ہے جس کو اللہ کریم نا پسند فرماتا ہے مثلاً قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی نہ کرنا مومنین کے ساتھ دوستی سے اعراض کرنا اور انبیاء کرام علیہم الصَّلٰوةَ وَ السلام اور آسمانی کتابوں میں تفریق کرنا یعنی بعض پر ایمان لانا اور بعض کا انکار کرنا ، اور فرضی اجتماعات میں شرکت نہ کرنا اور ان کے علاوہ ہر قسم کی بھلائی کو چھوڑنا اور برائی کو اپنانا وغیرہ کیونکہ بھلائی کو چھوڑنا اور برائی کو اپنانا یہ اس تعلق اور واسطے کو توڑ دیتے ہیں جو بالذات اللہ کریم اور اس کے بندے کے درمیان مقصود ہوتا ہے۔ (بیضاوی)
امام قرطبی فرماتے ہیں یہ حکم عام ہے ہر اس چیز کے بارے میں جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا.
كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(28)
بھلا تم کیوں کر خدا کے منکر ہوگے حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے ۔
امام ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے آباء کی صلبوں میں تھے اور کچھ بھی نہ تھے حتی کہ اس نے تمہیں پیدا فرمایا پھر وہ حق کی موت مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا جب تمہیں اٹھایا جائیگا. (در المنثور، ابن کثیر)
اللہ کریم نے اس سے ما قبل اپنی توحید و نبوت کے بےشمار دلائل دیئے ہیں۔ ایمان پر جنت کا وعدہ اور کفر پر عذاب جہنم کی وعیدیں سنائی ہیں اب اللہ کریم ان پر اپنی خاص اور عام نعمتوں کا تذکرہ فرماکر مومنین کے ساتھ وعدہ اور کافروں پر وعید کو مؤکد کر رہا ہے اور عظیم الشان نعمتوں کے باوجود ان کا کفر اور ناشکری قبیح اور بعید از مکان ہے کیونکہ نعمت جتنی بڑی ہوتی ہے اس کا کفر اور ناشکری کی سزا بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔ (تلخیص بیضاوی)
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ-ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍؕ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(29)
وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے اور وہ سب کچھ جانتا ہے ۔
ان آیات سے آپ ابتداء تخلیق کائنات اور اس کی توجیہ کا بیان مطالعہ کرینگے.
امام رازی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کیا ہی خوبصورت ترتیب بیان کی کیونکہ زمین و آسمان سے نفع زندگی کے بعد ہی ہو سکتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے حیات کا ذکر کیا اس کے بعد آسمانوں اور زمین کا تذکرہ لایا۔(کبیر)
حاکم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ یہود نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے تو انہوں نے آپ علیہ الصَّلٰوةَ والسلام سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بارے میں سوال کیا تو آپ علیہ الصَّلٰوةَ وَ السلام نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اتوار اور پیر کے دن زمین کو پیدا کیا اور منگل کے دن پہاڑوں اور جو اس میں منافع ہیں ان کو پیدا کیا، بدھ کے دن درختوں اور پانی، میدانوں اور آبادیوں اور ویرانوں کو پیدا کیا تو یہ چار ہوئے تو اللہ رب العالمین نے فرمایا :تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو وہ ہے سارے جہان کا رب۔اور اس میں اس کے اوپر سے لنگر ڈالے اور اس میں برکت رکھی اور اس میں اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملاکر چار دن میں ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو۔(حم السجدہ :٩،١٠)
اور جمعرات کے دن آسمان کو پیدا کیا اور جمعہ کے دن ستاروں، چاند، سورج اور ملائکہ کو پیدا کیا. (تفسیر آلوسی)
سورہ حٰم السجده میں اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا:
پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے تو اُنھیں پورے سات آسمان کر دیا دو دن میں اور ہر آسمان میں اسی کے کام کے احکام بھیجے اور ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور نگہبانی کے لیے یہ اس عزت والے علم والے کا ٹھہرایا ہوا ہے۔(حم السجدہ١٠،١١)
امام بيہقی فرماتے ہیں استواء اَقبَلَ یعنی متوجہ ہونے کے معنی میں صحیح ہے اس لئے کہ اقبال کا معنی آسمانوں کی تخلیق کا قصد کرنا. اور قصد ارادہ کو کہتے ہیں. (قرطبی)