بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(30)
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے .
اللہ تعالی نے تیسری نعمت کا ذکر فرمایا جو تمام لوگوں کے لئے عام ہے اور وہ تخلیق آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی عزت اور ملائکہ پر ان کی یہ فضیلت کہ اللہ نے ان کو آدم علیہ السلام کو سجدہ کا حکم دیا اور باپ پر انعام تمام اولاد کے لئے عام ہوتا ہے. (بیضاوی)
امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے العظمہ میں حضرت ابو العالیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں اللہ تعالی نے فرشتوں کو بدھ کے روز پیدا فرمایا اور جنوں کو جمعرات کو پیدا فرمایا اور آدم کو جمعہ کے دن پیدا فرمایا، پس جنوں کی ایک قوم نے کفر کیا پس فرشتے ان کی طرف زمین پر آئے اور ان سے جنگ کی زمین پر اس وقت فساد اور خون ریزی تھی ۔ اسی وجہ سے فرشتوں نے کہا کیا تو اسے خلیفہ مقرر کرتا ہے جو زمین میں فساد برپا کرے گا (در منثور، طبری، ابن کثیر، ابن ابی حاتم)
امام مسلم ، ابو داؤد، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہتر دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی اسی دن وہ جنت میں داخل کئے گئے، اسی دن جنت سے نیچے اتار لئے گئے ، اسی دن ان کا وصال ہوا اور اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہوگی. (سنن ابو داؤد)
حضرت قتادہ (اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یہ خدا کے علم میں تھا کہ اس خلیفہ سے رسول، انبیاء، صالحین اور جنت میں رہنے والے لوگ ہوں گے۔ ( فتح القدیر، ابن کثیر، ابن ابی حاتم، طبری، آلوسی)
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـٴُـوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(31)
اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھا دیے پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کر کے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔
جب ملائکہ نے تخلیق آدم، ان کی اولاد اور انہیں زمین پر ٹھہرانے کی حکمت پوچھی تو اللہ تعالیٰ نے أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ) سے مختصر طور پر حکمت بیان فرمائی اب اس کی تفصیل ہے. یہاں حضرت آدم علیہ السلام کی ایسی فضیلت بیان کی جو فرشتوں کو معلوم نہ تھی۔ اس طرح کہ حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اسماء کی تعلیم دی پھر ملائکہ سے سوال کیا تاکہ ان پہ حضرت آدم علیہ السلام کا علم میں فضل اور ملائکہ کی علم میں کمی ظاہر ہو جائے۔(کبیر)
امام مجاھد فرماتے ہیں انہیں تمام جانوروں، تمام پرندوں اور تمام چیزوں کے نام سکھا دئے. (ابن ابی حاتم، ابن کثیر)
اس روایت کا کچھ حصہ امام طبری نے بھی بیان کیا.
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آپ پر آپ کی اولاد کے نام، انسان کے نام اور جانوروں کے نام پیش کئے گئے تو کہا گیا یہ اونٹ ہے یہ گدھا ہے یہ گھوڑا ہے.
(فتح القدیر، ابن ابی حاتم، در منثور، ابن کثیر)
علامہ آلوسی فرماتے ہیں میرے نزدیک اس سے مراد فرشتوں کے عجز کو ظاہر کرنا ہے اور خلافت ظاہری اور باطنی کے معاملے میں ان کی صلاحیتوں کے قصور کو دکھانا ہے، ان کو حکم دیا گیا کہ ان ناموں کے بارے میں بتا دیں کہ ان سے کیا مراد ہے تو جو صرف نام بتانے سے عاجز ہوگا وہ اس شئ مطلوب کو اچھے طریقے سے آراستہ کرنے سے بدرجہ اولیٰ عاجز ہوگا. (تفسیر آلوسی)
قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(32)
۔(فرشتوں نے کہا: (اے اللہ !) پاکی ہے تجھے ۔ ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم والا، حکمت والا ہے۔
فرشتوں نے یہ کہہ کر اپنے عجز کا اقرار کر لیا اور یہ ظاہر کر دیا کہ ان کا سوال کرنا صرف استفسار تھا نہ کہ خلافت آدم علیہ السلام پر اعتراض، نیز اللہ کریم نے خلیفہ بنانے کی حکمت کو بھی واضح کر دیا اور حضرت آدم علیہ السلام کے کمال اور فضیلت کو واضح کر دیا اور فرشتوں نے اس نعمت کا شکریہ ادا کرنے اور ادب کی مراعات کا خیال کرتے ہوئے تمام علوم کو اللہ کریم کے سپرد کر دیا۔(بیضاوی)
ابن عباس فرماتے ہیں سبحان اللہ کے معنی اللہ تعالی کی پاکیزگی کے ہیں کہ وہ ہر برائی سے منزہ ہے۔ حضرت عمر نے حضرت علی اور اپنے پاس کے دوسرے اصحاب سے ایک مرتبہ سوال کیا کہ آیت (لا الہ الا اللہ) تو ہم جانتے ہیں لیکن دعا (سبحان اللہ) کیا کلمہ ہے ؟ تو حضرت علی نے جواب دیا کہ اس کلمہ کو باری تعالی نے اپنے کے لئے پسند فرمایا ہے اور اس سے وہ خوش ہوتا ہے اور اس کا کہنا اسے محبوب ہے۔(ابن ابی حاتم، ابن کثیر)
گو یا ملائکہ نے کہا تو تمام معلومات کا عالم ہے تیرے لیے تعلیم آدم ممکن ہے اور تیرا ہر فعل سراپا حکمت و درست ہے۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ملائکہ کی حکیم سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے اپنی حکمت سے آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنایا ہے۔(کبیر)
قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(33)
فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتا دئیے فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ۔
حضرت زید بن اسلم سے مروی ہے "انہوں نے (آدم علیہ السلام) نے فرمایا آپ جبریل ہیں، آپ میکائیل ہیں، آپ اسرافیل ہیں، (علیہم الصلوۃ والسلام) حتی کہ سارے نام گنا دئے یہاں تک کہ کوّے تک پہنچے. (ابن ابی حاتم، ابن کثیر)
یہاں اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے تا کہ اس پر دلیل قائم ہو جائے کہ اللہ کریم جب زمین و آسمان کے ان تمام امور کو جانتا ہے جو ان پر مخفی تھے اور وہ انہیں بھی جانتا ہے جو ان کے ظاہر اور باطنی حالات ہیں لہذا وہ ہر اس چیز سے آگاہ ہو گا جسے وہ نہیں جانتے ہیں۔ (بیضاوی)
فرشتوں نے کیا ظاہر کیا؟؟
اس بارے میں یہ کہا گیا ہے " کیا تو ایسے کو خلیفہ کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے." (بیضاوی)
جس طرح اوپر کی آیات میں ذکر کیا گیا.
امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے حضرت مہدی بن میمون رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے سنا ہے، حسن بن دینار نے ان سے پوچھا اے ابو سعید اللہ تعالی نے جو فرشتوں سے( وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَ ما كنتم تكتمون) فرمایا ہے اس کا کیا مطلب ہے ملائکہ نے کون سی بات چھپائی ہوئی تھی، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور فرشتوں نے ایک عجیب مخلوق دیکھی تو ان کے ذہنوں میں کچھ خیال آیا وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے۔ بعض نے کہا تم اس مخلوق کے متعلق اتنے کیوں پریشان ہو؟اللہ تعالیٰ ہم سے کوئی معزز مخلوق پیدا نہیں فرمائے گا۔ یہی بات تھی جو انہوں نے چھپا رکھی تھی (در منثور، طبری)
اس روایت کو علامہ آلوسی، قرطبی، ابن کثیر، ابن جوزی، ابن ابی حاتم نے الگ الگ طرق سے بیان کیا.
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(34)
اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافر ہوگیا۔
یہ تمام انسانوں پر ہونے والے انعامات میں چوتھی نعمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالی نے ہمارے باپ کو مسجود ملائکہ بنادیا ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی خلافت کیلئے تخصیص فرمائی پھر انہیں علم کثیر دیا پھر اتنا علم کہ ملائکہ ان کے درجہ علم کے سامنے عاجز آگئے اور اب ان کا مسجود ملائکہ ہونا بیان ہو رہا ہے۔(کبیر)
امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہاسے اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ کی یہ تفسیر نقل فرمائی ہے کہ سجدہ آدم علیہ السلام کے لئے تھا اور اطاعت اللہ کے لئے تھی ۔ (در منثور، فتح القدیر)
ابن کثیر اور امام طبری نے اسی کے مثل روایت کو حضرت قتادہ سے بیان کیا.
ابن اسحاق نے المبتدا میں، ابن جریر اور ابن الانباری نے ابن عباس سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں ابلیس معصیت پر سوار ہونے سے پہلے فرشتوں میں سے تھا اور اس کا نام عزازیل تھا اور یہ زمین کے رہنے والوں میں سےتھا وہ فرشتوں میں سب سے زیادہ مجتہد اور سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا، اس وجہ سے اس میں تکبر پیدا ہوا اور یہ فرشتوں کے اس قبیلہ سے تھا جنہیں جن کہا جاتا تھا. (در منثور،طبری، ابن کثیر، فتح القدیر)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے "فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا اور جنات کو نار یعنی آگ کے شعلے سے. (صحیح مسلم)
۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے" اللہ کے دشمن ابلیس نے آدم علیہ السلام سے حسد کیا جو شرف اللہ تعالیٰ نےآپ کو بخشا تھا اور کہا میں ناری(اگ سے بنا) ہوں اور یہ طینی (مٹی کا بنا ہوا) ہے گناہ کا آغاز تکبر سے ہوا اللہ کے دشمن نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے تکبر کیا. ( ابن ابی حاتم، ابن کثیر، در المنثور )
وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(35)
اور ہم نے فرمایا اے آدم تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا دل چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے ۔
حضرت ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جس درخت سے آزمایا تھا اس سے قبل فرشتوں کو بھی آزمایا گیا تھا اور ہر مخلوق کو آزمائش میں ڈالا اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کو اپنی اطاعت سے آزماتا ہے پس آدم علیہ السلام پر آزمائش جاری رہی حتی کہ آپ سے ممنوع امر کا ارتکاب وقوع پذیر ہو گیا. (طبری، در المنثور)
امام قرطبی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول أُسكُنْ میں خروج کی تنبیہ ہے، بعض عارفین نے لکھا ہے کہ سکونت ایک مدت تک ہوتی ہے اس کے بعد ختم ہو جاتی ہے. تو آپ علیہ السلام کا جنت میں دخول سکونت والا دخول تھا اقامت یعنی رہنے والا نہیں. (قرطبی)
امام عبد بن حمید، حاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں آدم علیہ السلام جنت میں نماز عصر کے وقت سے غروب شمس تک کے وقت کی مقدار ٹھہرے رہے (در المنثور ،فتح القدیر)
شیخین کی شرط پر یہ حدیث صحیح ہے.
اس جگہ کونسا درخت مراد ہے اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، بعض کے نزدیک گندم، انگور کی بیل، انجیر یا کوئی ایسا درخت ہے جس سے کوئی کھائے تو اسے حدث لاحق ہو جاتا ہے۔ امام بیضاوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ چونکہ اس پر کوئی قطعی دلیل موجود نہیں کہ کونسا درخت مراد ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ اسے معین نہ کیا جائے ، جس طرح آیت کریمہ میں اس کی تعیین نہیں کی گئی، کیونکہ اس پر مقصود موقوف نہیں. (بیضاوی)
امام ابن ابی حاتم، ابن حبان طبرانی حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابوامامہ الباھلی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ فرمایا ہاں ان سے اللہ نے کلام فرمایا تھا. پوچھا آدم اور نوح کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ فرمایا دس صدیاں۔ پھر پوچھا نوح اور ابراہیم کے درمیان کتنی مدت تھی؟ فرمایا دس صدیاں ۔ پھر پوچھا یا رسول اللہ انبیاء کتنے تھے؟ فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار، پھر پوچھا یا رسول اللہ ان میں سے رسول کتنے تھے؟ فرمایا تین سو پندرہ کا جم غفیر تھا (در المنثور ،فتح القدیر)
فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(36)
تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا اور ہم نے فرمایا نیچے اترو تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہونگے اور تمہیں زمین میں ٹھہرنا اور ایک وقت تک برتنا ہے ۔
امام ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود اور دوسرے صحابہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے فرمایا اسكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ( البقرہ: 35 ) تو ابلیس نے آدم و حوا کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔ وہ ایک سانپ کے پاس آیا جو ایک چار ٹانگوں والا اونٹ کی مانند بڑا جانور تھا اور یہ تمام جانوروں سے خوبصورت تھا، پس ابلیس نے سانپ سے کہا کہ وہ اسے اپنے منہ میں لے جائے حتی کہ وہ اسے آدم تک پہنچا دے، پس سانپ نے اسے اپنے منہ میں داخل کیا اور پھر وہ سانپ جنت کے داروغوں کے پاس سے گزر گیا اور جنت میں داخل ہو گیا۔ فرشتوں کو معلوم نہیں تھا جو اللہ نے ارادہ فرمایا تھا۔ پس شیطان نے سانپ کے منہ سے بات کی اور اس کے کلام کی پرواہ نہ کی گئی۔ پس ابلیس آدم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور کہا "اے آدم کیا میں تیری راہنمائی ہمیشہ کے درخت پر نہ کروں اور ایسی بادشاہی پر جو کبھی بوسیدہ نہ ہوگی" (طہ :١٢٠)۔ اور اس نے ان کے سامنے قسم اٹھائ کہ "میں تمہارا مخلص ہوں،"(الاعراف :21) آدم علیہ السلام نے وہ درخت کھانے سے انکار کر دیا۔ حضرت حواء بیٹھ گئی اور وہ دانہ کھالیا پھر انھوں نے آدم علیہ السلام سے کہا اے آدم کھالیں میں نے کھایا ہے تو مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچی ہے پس جب آدم علیہ السلام نے کھایا "تو دونوں کی شرم کی چیزیں ظاہر ہو گئیں اور دونوں نے جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کر دیا" (الاعراف :22)(در المنثور، فتح القدیر، طبری)
فأخرجهما مما كانا فيه (تو وہاں سے انھیں الگ کر دیا) یعنی جس جنت اور کرامت میں وہ رہتے تھے۔(بیضاوی)
وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا (اور ہم نے کہا اترو)
امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس ارشاد کے متعلق روایت فرمایا ہے کہ اس سے مراد آدم، حواء ، ابلیس اور سانپ ہیں جنہیں اترنے کا حکم ملا تھا اور( تمہیں زمین میں ٹھرنا ہے) سے مراد یہ ہے کہ تم نے قبور میں ٹھہرنا ہے اور (ایک وقت تک برتنا ہے ) سے مراد یہ ہے کہ زندگی تک تمہیں فائدہ اٹھانا ہے (در المنثور، فتح القدیر، طبری، ابن الجوزی)
امام نسفی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں
وَقُلْنَا اهْبِطُوا : (ہم نے کہا تم اترو) الهبوط کا معنی زمین کی طرف اترنا ہے۔ خطاب آدم، حواء اور ابلیس سب کو ہے بعض نے کہا سانپ کو بھی۔ صحیح یہ ہے کہ آدم و حواء کو۔ مراد یہ دونوں اور ان کی اولاد کیونکہ وہ دونوں کل انسان تھے تو گویا وہ ساری جنس انسان تھی ۔ اس کی دلیل سورۃ طہ کی یہ آیت ہے :تم دونوں اکٹھے جنت سے اتر جاؤ، تمہارے بعض بعض کے دشمن ہوں گے (طہ:١٢٣) (مدارک)
امام قرطبی فرماتے ہیں مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ (ایک وقت تک برتنا ہے) میں حضرت آدم علیہ السلام کو خوشخبری ہے کہ وہ جان لیں کہ وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہیں گے بلکہ وہ جنت کی طرف منتقل کئے جائینگے جسکی طرف پلٹنے کا وعدہ کیا گیا ہے اور آدم علیہ السلام کے غیر کے لئے یہ آیت بس آخرت پر دلالت کرتی ہے (قرطبی)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کا باہم مناظرہ ہوا تو آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے ، موسیٰ علیہ السلام نے کہا اپ آدم ہی ہیں جنہوں نے لوگوں کو اغواء کیا اور انہیں جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے فرمایا تم ہی موسیٰ ہو جنہیں اللہ تعالی نے ہر نعمت عطا فرمائی اور اپنی رسالت کے لئے منتخب فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ہاں (میں ہی وہ موسیٰ ہوں ) آدم علیہ السلام نے فرمایا تم مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتےہو جو میری پیدائش سے پہلے مقدر ہو چکا تھا (بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائ، ابن ماجہ)
فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمَٰةٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ
التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (37)
پھر آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لئے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کی۔ بیشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل ہے سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کیا یا رب کیا تو نے بلا واسطہ اپنے دست اقدس سے مجھے پیدا نہیں فرمایا؟ فرمایا کیوں نہیں ، عرض کیا یا رب، کیا تو نے میرے اندر اپنی روح نہیں پھونکی ؟ فرمایا کیوں نہیں ۔ عرض کیا: کیا تو نے مجھے جنت میں نہیں ٹھہرایا؟ فرمایا کیوں نہیں ۔ عرض کیا، کیا تیری رحمت تیرے غضب پر غالب نہیں ؟ فرمایا: کیوں نہیں ۔ عرض کیا: یا رب اگر میں توبہ کر کے اصلاح کرلوں تو کیا مجھے دوبارہ جنت مل جائے گی ؟ فرمایا: ہاں امام سدی نے یہ الفاظ زیادہ نقل کئے ہیں یا رب کیا تو نے مجھ پر یہ خطا نہیں لکھی تھا؟ فرمایا ہاں۔(کبیر)
امام سدی کی روایت کو ابن ابی حاتم، ابن کثیر، طبری نے ذکر کیا.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کلمات سے مراد ربنا ظلمنا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَاوَ تَرْحَمنا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ.(الاعراف :٢٣)
دونوں نے عرض کی: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو نے ہماری مغفرت نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ضرور ہم نقصان والوں میں سے ہوجائیں گے۔(در المنثور ،فتح القدیر، ابن الجوزی، آلوسی)
آپکی یہ دعا قرآن کریم سے ثابت ہے اس باب میں مفسرین نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دیگر اصحاب سے کئی روایات کا ذکر کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام کی توبہ ان کلمات سے قبول ہوئی پھر آپ نے اپنی خطا کو یاد کرکے الگ الگ طریقہ سے دعا کی جس میں سے ایک دعا ذیل ہے:
امام طبرانی نے معجم الصغیر میں، حاکم، ابو نعیم اور بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی انہوں نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کی اللہ میں تجھ سے محمد کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری مغفرت فرما. اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی اور پوچھا محمد کون ہے؟ آدم علیہ السلام نے عرض کی تیرا اسم بڑا بابرکت ہے جب تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں نے اپنا سر عرش کی طرف اٹھایا تو اس پر لا اله الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ لکھا ہوا تھا پس مجھے معلوم ہو گیا کہ اس ذات سے معزز تیری بارگاہ میں اور کوئی نہیں ہے جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ لکھا ہے۔ پس اللہ تعالٰی نے آدم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اے آدم یہ تیری اولاد سے آخری نبی ہے، اگر یہ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا (در المنثور)
امام بیضاوی فرماتے ہیں توبہ اپنے گناہ کے اعتراف، اس پر ندامت اور اس چیز کے پکے ارادہ کا نام ہے کہ دوبارہ اس کی طرف نہیں لوٹےگا اور یہاں صرف آدم علیہ السلام کا ذکر کیا کیوں کہ حضرت حواء حکم میں آپکی تابع ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اکثر جگہ قرآن و سنت میں عورتوں کے ذکر میں اسی پر اکتفاء ہے. (بیضاوی)
سورۃ الاعراف میں دونوں کی توبہ کا ذکر ہے.
قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(38)
ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم.
جب حضرت آدم و حوا علیہما السلام سے لغزش ہو گئی اور دونوں کو اترنے کا حکم ملا تو دونوں نے اس حکم کے بعد توبہ کی اور دل میں خیال آیا کہ لغزش کی وجہ سے اترنے کا حکم تھا اب توبہ کے بعد لازمی ہے کہ یہ اترنے کا حکم باقی نہ رہے تو اللہ تعالی نے دوبارہ ھبوط کا حکم دیا تاکہ انہیں اس بات کا علم ہو جائے کہ ھبوط، لغزش کے ارتکاب پر بطور سزا نہیں کہ وہ اس کے زوال سے زائل ہو جائے بلکہ وہ تو توبہ کے بعد بھی باقی رہے گا کیونکہ اس میں پہلے وعدہ کا پورا کیا جانا ہے۔ فرمان الہی ہے: إنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ ( البقره ٣٠) میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں(کبیر)
امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کریمہ میں ہُدًی سے مراد انبیاء، رسل اور بیان ہے (در المنثور، طبری، فتح القدیر، ابن ابی حاتم، ابن کثیر )
ھدایت سے مراد ہر قسم کی رہنمائی اور بیان ہے۔ اس میں عقل بھی شامل ہے اور ہر وہ کلام بھی جو نبی پر نازل ہوتا ہے۔ اس میں اس پر تنبیہ ہے کہ حضرت آدم و حوا علہیم السلام پر کس قدر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے گویا یہ فرمایا اگر میں نے تمہیں جنت سے زمین کی طرف اتارا ہے تو میں نے تم پر ایسی نعمت نازل کی ہے جو تمہیں دوبارہ جنت میں داخل کر رہی ہے اور تم وہاں ہمیشہ رہو گے. (کبیر)
امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے فلا خوفٌ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ آخرت میں انہیں کوئی خوف نہیں ہو گا اور یَحزَنُونْ کا مطلب یہ ہے کہ موت سے وہ غمگین نہ ہوں گے۔ (در المنثور، فتح القدیر، ابن ابی حاتم)
الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(39)
اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتوں کو جھٹلائیں وہ دوزخ والے ہوں گے،وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
جب اللہ تعالی نے ہدایت کی اتباع کرنے والوں سے عذاب وحزن سے امن کا وعدہ فرمایا تو اس کے بعد ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جن کیلئے عذاب دائمی ہے تو فرمایا: "وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا " خواہ یہ منکر انسان ہوں یا جن یہ ہمیشہ کا عذاب پائیں گے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں تو جہنم میں نہ موت آئے گی نہ وہ زندہ رہیں گے، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو ان کے گناہوں یا ان کی خطاؤں کی وجہ سے آگ کا عذاب دیا جائے گا یہ جل کر کو ئلے ہو ہو کر مرجائیں گے اور پھر شفاعت کی وجہ سے نکال لئے جائیں گے۔( صحیح مسلم
واضح ہونا چاہئے کہ آئندہ آیات یعنی یٰبَنِیْ اسرائیل اذكروا نعمتي التي انعمت عليكم " کا ماقبل سے ربط یہ ہے کہ اللہ کریم نے اس سے پہلی آیات میں دلائل توحید، نبوت اور آخرت کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد اپنے عام احسانات کا ذکر فرمایا تاکہ مذکورہ مضامین اور زیادہ پختگی کے ساتھ ثابت ہو جائیں ، اس حیثیت سے کہ یہ حکیمانی واقعات ہیں ایک ایسی حکیم ذات پر دلالت کرتے ہیں جو خلق اور امر(حکم) میں یکتا ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور ان واقعات کی ایک حیثیت یہ بھی ہے کہ ان کو پیش کرنے والا ، ان کی خبر دینے والا اور کتب سابقہ میں جس طرح درج ہے ، ٹھیک اسی طرح خبر دینے والا ان میں سے ہے جس نے ان کتابوں میں سے کوئی کتاب نہ پڑھی ، نہ کسی سے سیکھی اور نہ سنی ، اس طرح کی خبر خبر بالغیب ہے اور معجزہ ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ خبریں دینے والا نبی برحق ہے. (بیضاوی)

No comments:
Post a Comment