Wednesday, 26 April 2023

ترتیب آیات سورۃ البقرہ رکوع :ا

 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ

 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ


 الٓمّٓ (1)



 امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، مفسرین نے الٓمّٓ کے بارے میں کئ باتیں بیان کی ہیں۔ جس میں سے ایک یہ ہے، "کہ یہ متشابہات میں سے ہے، جس کے حقیقی معنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا" (تفسیر ابن جوزی)

     سورۃ الفاتحہ میں کتاب کے مقصود کو بیان کیا گیا۔ جس کا معنی اِتنا ظاہر ہے بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن سورۃ البقرۃ کو ایسے حروف سے شروع کیا گیا، جس کے معنی کو سمجھنے سے بڑے علماء کی عقلیں بھی حیران ہیں۔ (نعیمی)


 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، "ہر کتاب کے کچھ راز ہوتے ہیں اور قرآن کے راز سورتوں کے شروع میں آنے والے الفاظ ہیں"۔ (تفسیر آلوسی و ابن جوزی)

    اسی طرح امام طبری اور امام جلال الدین سیوطی نے داؤد ابن ہند سے روایت بیان کی۔  (طبری، در منصور)


      اور قرآن حکیم میں ہے:

 وَ  مَا  كَانَ  اللّٰهُ  لِیُطْلِعَكُمْ  عَلَى  الْغَیْبِ  وَ  لٰكِنَّ  اللّٰهَ  یَجْتَبِیْ  مِنْ  رُّسُلِهٖ  مَنْ  یَّشَآءُ   ۪-  فَاٰمِنُوْا  بِاللّٰهِ  وَ  رُسُلِهٖۚ-وَ  اِنْ  تُؤْمِنُوْا  وَ  تَتَّقُوْا  فَلَكُمْ اَجْرٌ  عَظِیْمٌ۔


 

اور اللہ کی شان نہیں، کہ اے لوگو!  تمہیں غیب کا علم دے۔ ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے۔ تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر۔ اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری اختیار کرو، تو تمہارے لیے بڑا ثواب ہے۔  (آل عمران: 179)

  

 اب ہم اپنے اصل موضوع ترتیبِ قرآن پر آتے ہیں..

      تو یقینن آپ نےاس سے پہلے سورۃ الفاتحہ کو پڑھا۔ وہ جس میں سب سے پہلے اللہ کی شان بیان کی گئی۔ پھر اللہ کی رحمت کا ذکر ہوا اور اس کے بعد اس کی بڑائی بیان کی گئی۔ اب آپ سورۃ البقرۃ کی طرف آتے ہیں، تو اس کو الٓمّٓ سے شروع کیا گیا ہے۔ جس کے حقیقی معنی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن مفسرین نے اس کی کئ تاویلات بیان کی ہیں۔ جس میں سے ایک اقتباس مجھے سورۃ الفاتحہ سے منسلک ملا، جو پیشِ خدمت ہے۔




 حضرت ابو العالیہ اور ربیع بن انس سے روایت ہے، "الف سے مراد اللہ ہے، لام سے مراد لطیف ہے اور میم سے مراد مجید ہے۔" (در منصور، طبری، ابن جوزی)


 تشریح: پہلی آیت میں اللہ کی شان بیان ہوئی۔


      لطیف : (بہت زیادہ لطف کرنے والا) لطف عام زبان میں ایک اندر سے ملنے والی خوشی ہے، جو اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔


            مجید : بزرگ یعنی بڑائی والا تو وہ آخرت کے دن کا مالک ہے۔ جس دن سارے بادشاہوں کی بادشاہت ختم ہو جائے گی اور وہ بڑی شان سے فارمائیگا "آج کس کی بادشاہت ہے"۔  

(سورۃ المومن : 16)


      


    تو وہی اللہ عبادت کے لائق ہے۔


   

        ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ (2)


 وو بلند رتبہ کتاب جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اس میں ڈرنے والے کے لیے ہدایت ہے۔


     امام آلوسی بیان کرتے ہیں کہ سب سے انوکھی بات جو میں نے دیکھی کہ سورۃ الفاتحہ میں صراط مستقیم کی طرف اشارا ہے گویا کہ لوگو نے ہدایت کا سوال کیا تو ان سے کہا گیا کہ جس راستے کی طرف تم ہدایت کے طلبگار ہو وہ یہ کتابیعنی قرآنِ کریم ہے۔  (تفسیر آلوسی)


      حضرت قتادہ مُتَّقِیْنَ کے بارے ميں فرماتے ہیں، وہ مومنین ہیں، جن کی تعریف اللہ نے اگلی آیت میں بیان کی۔ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ (تفسیر ابن کثیر و ابن ابی حاتم) 

         سورۃ الفاتحہ میں آگے تین قسم کے لوگوں کا ذکر ہے۔

 (1) انعام یافتہ لوگ، جو متقین یعنی مومنین ہیں۔ اب سورۃ البقرۃ میں بیان ہوگا کہ انعام یافتہ لوگو کی کیا خوبیاں ہیں۔


 الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ۔(3)


 وو لوگ جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔




            ترتیب


 حضرت قتادہ ھُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ کے بارے ميں فرماتے ہیں، اُن کی خوبی اور اُن کا وصف یہ ہے، الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ یعنی وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں الایة۔  (در منثور)

         امام آلوسی، امام رازی، امام نسفی اور امام شوکانی نے بھی اس آیت کے بارے میں یہی بیان کیا کہ یہ متقین کے وصف ہیں۔

       یعنی اس آیت میں متقین کی تفسیر ہے کہ متقین کون لوگ ہیں۔

 حضرت ابن عباس غیب کے بارے ميں فرماتے ہیں، "جو اس یعنی اللہ کی طرف سے آیا"۔  (طبری) 

     اس سے واضح ہوا کہ غیب کا معنی اگلی آیت میں ہے۔ 

  وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ.  بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ (4)


 اور وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو تم پر نازل کیا گیا۔ اور جو تم سے پہلے نازل کیا گیا اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ 


      حضرت عبد اللہ ابن مسعود اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، "الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ" یہ عرب کے مومنین ہیں۔ 

 (وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ) الآية.  یہ اہل کتاب کے مومنین ہیں۔ پھر اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ. انہیں دونوں کو جمع کیا۔ (در المنثور، فتح القدیر، ابن کثیر)

        امام طبری فرماتے ہیں، کہ اہل عرب کے پاس اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں تھی۔ جو اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی۔ جس کی تصدیق کر کے وہ اس کا اقرار کرتے اور اس پر عمل کرتے۔ کتاب اہل کتاب کے پاس تھی۔ (طبری)

    

 ایمان بالغیب کے بارے میں مفسرین کے دو قول ہیں۔ پہلا تو یہ کہ وہ اہل عرب کے مومنین ہیں۔ جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تھی اور اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ مثال، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین، دوسرا قول یہ کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والے وہ مومنین ہیں، جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آے اور انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔ اس قول کی حمایت میں مفسرین نے کئ روایت نقل کی ہیں۔ جو آپ تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہم یہاں صرف دو روایت اس قول کی تائید میں پیش کرینگے۔ 

      ابن ابی شیبہ نے عوف بن مالک سے تخریج کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کاش میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرتا" انہوں نے (صحابہ) کہا، "کیا ہم آپ کے بھائی اور اصحاب نہیں" فرمایا، "کیوں نہیں، لیکن تمہارے بعد ایک قوم آئیگی جو مجھ پر تمہاری طرح ایمان لائے گی، میری تمہاری طرح تصدیق کرے گی۔ تمہاری طرح میری مدد کرے گی۔ کاش! میں اپنے ان بھائیوں سے ملاقات کرتا"  (در المنصور)

     ابن عساکر نے حضرت انس سے تخریج کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "کاش! میں اپنے بھائیوں سے ملتا" تو صحابہ کرام میں سے ایک شخص نے کہا "کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں" فرمایا، "کیوں نہیں، تم میرے صحابی ہو اور میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور مجھ پر ایمان لے آئیں گے، حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا۔ پھر تلاوت کی "الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ" (در المنثور)

    اسی سے ملتی جلتی کئ روایات مختلفر تفاسیر میں ابن کثیر، امام ابن جوزی اور امام جلال الدین سیوطی نے در المنثور میں کئ طرق سے بیان کی۔


     اس روایت کو میں نے اس لیے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تلاوت فرمائی ۔

      یہ ایمان بالغیب  کے بارے میں مفسرین کے اقوال ہیں۔ اوپر کی روایت میں عرب کے مومنین کا ذکر ہے۔ جس سے واضح ہوا کہ اس میں وہ سب لوگ شامل ہیں، جن پر اللہ کی طرف  سے کچھ نازل نہیں ہوا اور وہ اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔

     اللہ رب العزت نے اگے فرمایا۔ 


          اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (5)


      یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ 


 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ  کے بارے میں فرمایا یعنی اپنے رب کی طرف سے نور اور جو اُن کی طرف (قرآن) آیا اس کی استقامت پر ہیں۔  (تفسیر ابن ابی حاتم، ابن جوزی، ابن کثیر، طبری)

       استقامت یعنی کسی چیز پر جم جانا اور اس سے نہ ہٹنا، جس طرح سورۃ الفاتحہ میں بھی صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی دعا کی گئی ہے۔ تو یہاں یہ واضح ہو گیا کہ اس سیدھی راہ پر کون لوگ قائم ہیں۔ 

        امام طبری اس آیت کے بارے میں لکھتے ہیں۔  "اس سے پتہ چلا کہ یہ لوگ خاص اہل ہدایت اور فلاح (کامیابی) سے ہیں نہ کہ ان کے علاوہ بلکہ ان کے علاوہ جو لوگ ہیں وہ گمراہی اور نقصان والے ہیں۔" (طبری)


      آگے فرمایا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ یعنی یہ لوگ کامیاب ہیں اور کامیابی کے بعد ہی انعام ملتا ہے۔ تو سورۃ الفاتحہ میں جن انعام یافتہ لوگو کا ذکر تھا، یہ اس کی تفسیر تھی۔ اس کے بعد غضب یافتہ لوگوں کا ذکر ہے۔ جس کی وضاحت اس سے اگلی آیت میں ہے۔


   اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (6)


 بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، ان کے لئے برابر ہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں۔ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

      جب اپنے اولیاء کا ذکر ان خوبیوں سے کر دیا، جو اس کی طرف قریب کرنے والی ہیں۔ اور یہ بیان فرما دیا کہ کتاب ان کے لئے ہدایت ہے، تو اس کے بعد ان کے مخالفین کا ذکر کیا اور وہ سرکش دھتکارے ہوئے وہ لوگ ہیں، جن کو ہدایت فائده نہیں دیگی۔ 

 حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے فرماتے ہیں، عرض کیا گیا، یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم قرآن پڑھتے ہیں تو ہمیں بہت امید ہو جاتی ہے۔ اور کبھی ہم قرآن پڑھتے ہیں، تو قریب ہوتا ہے کہ ہم مایوس ہو جائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تم کو جنت والوں اور جہنم والوں کی خبر نہ دوں؟ عرض کی، کیوں  نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم تو حضور نے الٓمّٓ سے الْمُفْلِحُوْنَ تک پڑھا اور فرمایا یہ جنتی ہیں۔ صحابہ نے کہا ہم اس کی امید لگاتے ہیں کہ ہم ان میں سے ہوں۔ پھر فرمایا اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے عَظِیْمٌ تک یہ جہنمی ہیں۔ تو ہم نے کہا، ہم ان میں سے نہیں ہیں یا رسول اللہ! صلی الله عليه وسلم تو فرمایا، ہاں۔ (تفسیر ابن ابی حاتم، در المنصور)



 حضرت ابن اسحاق، ابن جریج اور ابن ابی حاتم نی حضرت ابن عباس سے تخریج کی۔

  اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ جو لوگ کفر کرتے ہیں"

   جنہوں نے کفر کیا یعنی بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ جو آپ پر نازل ہوا اگرچہ وہ کہیں کہ جو اس سے پہلے آیا ہم اس پر ایمان لائے ہیں۔ ان پر برابر ہے تم اُن کو ڈراؤ یا نہ دڑاؤ وہ ایمان لانے والے نہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو آپ کا ان کے پاس ذکر ہے اس کا انکار کیا اور اسے تو گویا انہوں نے جو چیز آپ لے کر آئے ہیں اس کو جھٹلا دیا اور اس کو جو ان کے پاس ہے جس کو آپ کے علاوہ دوسرے انبیاء لے کر آئے تو وہ آپ کی جانب سے ڈرانا کہاں سنیں گے جبکہ وہ کفر کر چکے اس سے جو ان کے پاس آپ کے بارے ميں علم ہے۔

 خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘

 تو ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردے ہیں یعنی ہدایت سے، کہ وہ اس ہدایت کو کبھی بھی نہیں پہنچیں گے بغیر اس حق کے، جس کو آپ لائے ہیں اور اس کی وجہ سے یہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس پر ایمان لائیں اگرچہ آپ سے پہلے جو کچھ ہے اس سب پر ایمان لے آئیں اور ان کے لیے جو انہوں نے آپ کے خلاف کیا، عزاب عظیم ہے اور یہ علماء یہود کے بارے ميں ہے۔  (در المنصور، ابن کثیر)

   تفسیر ابن ابی حاتم اور فتح القدیر میں بھی اس روایت کا کچھ حصہ بیان کیا۔



 خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (7)


 امام مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، "خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ۔ مجھے خبر دی گئی کہ گناہ دل پر ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ اس کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں یہاں تک کہ اس پر چپٹ جاتے ہیں اور ان کا اُس پر چپٹ جانا یہی الطبع ہے اور اسی الطبع کو ختم یعنی مہر کہتے ہیں۔ (طبری، ابن ابی حاتم) 


     اس آیت کے بارے میں حضرت قتادہ نے فرمایا، "شیطان ان پر غالب آگیا جب انہوں نے اس کی اطاعت کی تو اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کر دی تو وہ نہ ہدایت کو دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں"۔ (فتح القدیر،  ، ابن ابی حاتم)

Thursday, 2 March 2023

    1.  سورہ فاتحہ کا آغاز

     آخری بلاگ میں ہم نے سورۃ الفاتحہ کو پہلے رکھنے کی حکمت پر بات کی تھی۔ آئیے اب سورۃ الفاتحہ کو آیت کی ترتیب کے مطابق شروع کرتے ہیں۔ اس سے پہلے میں ایک بات کہنا چاہونگی کہ میں جو بھی کچھ آیات کی ترتیب کے اعتبار سے بیان کرونگی، بزرگ علماء کی مستند کتابوں سے ہوگا۔ اپنے پاس سے صرف کچھ چیزوں کی وضاحت کی جائے گی کیونکہ سورۃ الفاتحہ میں ان لوگوں کے پیچھے چلنے کی تعلیم دی گئی ہے جن پر اللہ کا انعام ہوا اور یہی سیدھا راستہ


 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ

 میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں نکلے ہوئے شیطان سے۔



     قرآن کریم میں ہے، "جب تم قرآن پڑھو تو نکلے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو۔"  98: النحل

   تفسیر ابن کثیر میں اس کی حکمت کے بارے میں کہا گیا ہے؛ "کہ اعوذ منھ کے لیے پاکی ہے جو انسان کے منھ سے بیکار اور بیہودہ باتیں نکلتی ہیں اور تلاوتِ کلامِ الٰہی کے لیے تیاری اور اللہ کی طرف سے اس پر مدد چاہنا اور اپنی بندگی اور نا قدری (نااہلیت) کو قبول کرنا اس باطنی دشمن (اندرونی دشمن) کے مقابلے میں سواے اسکے کہ اللہ مدد فرمائے۔



    امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ "اعوذ ان اعمال اور عقائد سے بچنے کی طرف اشارہ ہے جن سے منع کیا گیا"۔




 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحمت والا ہے۔


 ابو جعفر محمد ابن علی سے حدیث نقل ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہر کتاب کی کنجی (چابی) ہے"۔  

(تفسیر در منصور)


       امام بیضاوی فرماتے ہیں: "اللہ نے فرمایا بِسْمِ اللّٰهِ (اللہ کے نام سے شروع) تاکہ اس کے نام کے ذکر سے اس کے نام کی برکت اور مدد حاصل ہو"۔

  (تفسیر بیضاوی)



       ابی الشعثه جابر ابن زید سے بِسْمِ اللّٰهِ کے بارے میں بیان کرتے ہیں؛ "اسم (نام) اللہ اسم اعظم ہے کیا تم نہیں دیکھتے خالص قرآن میں ہر اسم سے پہلے یہی نام پاک آیا ہے."

 (تفسیر ابن ابی حاتم)
       یعنی قرآن عظیم کو اسم اعظم سے شروع کیا گیا۔



 امام رازی رحمۃ اللہ علیہ اس کی ترتیب میں فرماتے ہیں؛ "تسمیہ (بِسْمِ اللّٰهِ) اشارہ ہے نیک اعمال اور عقائد کی طرف"۔




    تقریبن اکثر تفاسیر میں احادیث کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے، "نام الرَّحْمٰن یعنی دنیا و آخرت میں اور خاص مومنین (مسلمانوں) پر رحم کرنے والا۔ اس لئے رحمٰن کو پہلے اور رحیم کو بعد میں رکھا گیا ہے۔





 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (1)

 سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں (دنیا) کا پیدا کرنے والا ہے۔



        انسانی فطرت میں اللہ کی پہچان کی طرف ایک احساس رکھا گیا ہے جب وہ اس جہاں کو دیکھتا ہے تو کہیں نہ کہیں وہ خدا کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ کوئی ہے جو اس دنیا کو چلا رہا ہے۔  بس اسی احساس یا سوال کا جواب قرآن مقدس کی یہ پہلی آیت کریمہ کس شان سے دے رہی ہے وہ اللہ ایک عالم کا پروردگار نہیں بلکہ حضرت ابی العالیہ سے حدیث مروی ہے کہ انسان ایک عالم (تخلیق) ہے جن ایک عالم اور اس کے علاوہ فرشتوں کے اٹھارہ ہزار یا چودہ ہزار زمین پر عالم ہیں اور زمین کے چار زاویے (کونے) ہیں اور ہر کونے پر تین ہزار پانچ سو عالم ہیں۔ جن کو اللہ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا

وہ اللہ ان سب کا پروردگار ہے ۔ 
(ابن کثیر، طبری)



      تو یہ ہے اس اللہ کی شان جو اس کریم کے کلام سے ظاہر ہو رہی ہے۔ حدیث قدسی میں ہے، "میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کے میں پہچانا جاؤں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا"۔  

(الفتوحات المکیہ)



     جب آپ کسی چیز کی تعریف کرتے ہیں تو وہ اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے۔  (نعیمی)

 اور اللہ وہ ہے جس نے نہ صرف پیدا کیا بلکہ اس کی پرورش فرما رہا ہے۔



     حضرت عبد اللہ ابن عباس سے مروی ہے، "رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یعنی مخلوق کا خدا؛ "سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو مالک ہے ساری مخلوق کا، آسمان اور زمین کا، جو کچھ اس کے اندر ہے اور جو کچھ اس کے بیچ میں ہے  جس کو ہم جانتے ہیں یا جسکو نہیں جانتے۔  

(ابن کثیر، ابن جوزی، فتح القدیر)



    امام رازی فرماتے ہیں: "اللہ رب العزت نے اس سورت میں اپنے پانچ ناموں کا ذکر کیا اللہ، رب، رحمٰن، رحیم اور مالک۔ جیسے کہ وہ فرما رہا ہو میں نے تجھے پہلے پیدا کیا تو میں تیرا خدا ہوں پھر میں نے احسان کرتے ہوئے تجھے پالا تو میں تیرا رب ہوں پھر تو نے خطا کی تو میں نے اسے چھپایا تو میں رحمٰن ہوں پھر تو نے توبہ کی تو میں نے اسے بخش دیا تو میں رحیم ہوں پھر ضروری تھا تجھے جزا (بدلے) کی طرف لوٹانا تو میں مالک یوم الدین ہوں ۔

(تفسیر کبیر)



 


        الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (2)

 بہت مہربان رحمت والا

   مخلوق کی پرورش کی وجہ کیا ہے "رب العالمین میں موقع تھا کے شاید وہ پالنے پر مجبور ہے تو یہاں فرمایا، "نہیں وہ صرف اپنی رحمت سے پالتا ہے"۔ 

 (نعیمی)

 

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا اور وہ اپنی ذات کے بارے میں لکھتا ہے جو اس کے پاس عرش پر لکھی ہوئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے"۔  
(بخاری، مسلم) 


    مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ (3)

 جزا (بدلے) کے دن کا مالک 

    حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ یعنی وہ دن جس دن بندو کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے گا"۔  

(در المنصور، طبری، فتح القدیر)

    فتح القدیر اور طبری میں ابن جریج سے روایت ہے،  "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ" یعنی جس دن لوگون کو انکے بدلے کا حساب دیا جائے گا۔



                                                                بیضاوی اور نسفی میں ہے،  "یَوْمِ الدِّیْنِ کا مطلب بدلے کا دن ہے اور یہ "كما تدين تدان" (جیسا کروگے ویسا بھروگے) سے ہے۔"



      اب اس کی شان اس طریقے سے بیان کی کہ یہ وضاحت ہو جائے کہ یہ مخلوقات (دنیا) کا آخر ہے۔ 

(خزائن العرفان) 
تو مقصد قرآن کیونکہ اللہ کی پہچان ہے تو "اسے یا تو پروردیگار سمجھ کر مان لو یا اس کی رحمت کو دیکھ کر مان لو ورنہ ایک دن ایسا مقرر کیا گیا ہے کہ ماننا ہی پڑے گا"



      رحمت کا یہ مطلب نہیں کہ جو چاہو کرو یا اس کہ خدا ہونے کا ہی انکار کرو بلکہ اس دن اس کی بادشاہت ظاہر کر دی جائے گی۔


 

      یہ توازن آپ کو پورے قرآن میں نظر آئےگا جہاں رحمت کا ذکر ہوگا وہاں عذاب کا بھی ذکر ہوگا۔


اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ (4)


    ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔




 اب اللہ کی حمد اس شان سے بیان کرنے کے بعد کہ وہ ہی حقیقتاً عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ رب ہے، رحمٰن ہے، رحیم ہے۔ بندو کو تعلیم دی کہ وہ اپنے سر کو اسی ایک بادشاہِ حقیقی کے آگے جھکائیں اور اس عظیم دن کے لئے اسی سے مدد چاہیں جس دن وہ حق دین کا فیصلہ فارمائیگا۔


       حدیث:

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا, اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے نماز  کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان بانٹ لیا ہے۔ آدھا میرے لئے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے۔ جب میرا بندہ کہتا ہے، "اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن" تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔ جب وہ کہتا ہے، "الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" تب وہ کہتا ہے اس نے میری ثنا بیان کی۔ جب وہ کہتا ہے، "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ" تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ جب وہ کہتا ہے، "اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ" تو اللہ فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ جب وہ کہتا ہے، 
 "اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ"
 تو اللہ فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔  (صحیح مسلم)


 امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، "اِیَّاكَ نَعْبُدُ" ثنا (تعریف) ہے اور ثنا غیبت میں بہتر اور "اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ" دعا ہے اور دعا حضوری میں بہتر ہے۔

     بندہ جب اللہ کے قریب ہونے کے لیے نماز پڑھتا ہے تو وہ نیت کے بعد اللہ کی ثنا بیان کرتا ہے، پھر جب وہ اللہ کے کرم سے قربت کے مقام تک پہنچتا ہے، تو وہ غیب کے مقام سے حضوری کے مقام میں داخل ہو جاتا ہے۔ 
     اس کی ایک وجہ امام رازی نے یہ بیان کی۔ کہ اللہ کی عبادت، اس کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
(کبیر) 



     تفسیر نسفی میں ہے، عبادت کو استعانت سے پہلے اس لئے رکھا گیا ہے کہ حاجت سے پہلے وسیلہ لانا قبولیت کے زیادہ قریب ہے۔

          اسی طرح امام بیضاوی نے بیان کیا۔



 حضرت قتادہ فرماتے ہیں، "اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ" وہ (اللہ) تمہیں حکم دیتا ہے تم اس کی عبادت کرو اور اپنے کاموں میں اس سے مدد چاہو۔  

(ابن کثیر)
       ابن کثیر کہتے ہیں کہ "اِیَّاكَ نَعْبُدُ" کو "وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ"  سے پہلے اس لئے رکھا گیا کیونکہ عبادت اصل مقصد ہے اور استعانت اس پر وسیلہ ہے۔  
(تفسیر ابن کثیر)
   

 

     مفتی احمد یار خان صاحب نے اس کی ایک وجہ یہ بیان کی کہ کسی کام میں مدد چاہتے ہیں تو وہ اگلی آیت میں ہے۔


   اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ (5)صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ (6) غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ (7)

 ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔  راستہ ان کا جن پر تو نے انعام فرمایا نہ کہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔

      تفسیر طبری میں ہے "صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ" وضاحت ہے صراتِ مستقیم کی کہ وہ کون سا راستہ ہے حالانکہ ہر وہ راستہ جو حق کا راستہ ہے صراتِ مستقیم ہے۔ 


          حضرت علی اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود اور کئ طریقوں سے یہ روایت بیان ہوئی کہ صراتِ مستقیم اللہ کی کتاب ہے۔

(ابن جوزی، فتح القدیر، در منصور، طبری)

      محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ اے حبیب فرمایئے، ہمارے رب ہمیں سیدھے راستے پر چلا راستہ ان کا جن پر تو نے انعام کیا اپنی عبادت اور اطاعت کی وجہ سے۔  

(طبری)



    انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟؟

       امام بیضاوی اور نصفی نے بیان کیا کہ انعام یافتہ لوگ وہ ہیں جو غضب اور گمراہی سے بچے ہوئے ہیں۔
     اِسی طرح کا مفہوم امام طبری نے بیان کیا ہے۔
    
      امام رازی فرماتے ہیں غضب یافتہ لوگ کافر ہیں اور بہکے ہوئے (گمراہ) لوگ منافق۔
     اور یہ اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ بقرہ (جو کی اس سے اگلی سورت ہے) کی پچھلی پانچ آیتوں میں مومنین (انعام یافتہ بندو) کا ذکر کیا اس کے بعد کافروں کا ذکر کیا پھر منافقوں کا۔  
(تفسیر کبیر) 

      اسی طرح امام طبری نے امام مجاہد سے روایت کیا۔

(تفسیر طبری) 

        یہ ہے ان آیتوں کے درمیان تعلق جو ہم نے تفسیر کی کتابوں سے بیان کیا۔ انشاءاللہ اگلے بلاگ میں سورۃ البقرہ کے بارے میں بیان کیا جائے گا۔


           جاری رہےگا.....

      

Wednesday, 18 January 2023

Surat ul baqarah ayat 13 to 16

 بسم الله الرحمن الرحيم

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰـكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(13)

Aur jab unse kaha jaye ki tum aise imaan lao jese dusre log imaan laye to kehte hein ki kya hum bewaqoofo ki tarah imaan layein. Sun lo! Beshak yahi log bewaqoof hein magar ye nahi jante.


     Ibn e abi Hatim ne Hazrat ibn e Abbas se takhreej ki is qoul ke bare me.... 

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ 

(Jab unse kaha jaye imaan lao jis tarah aur log iman laye) yani is tarah tasdeeq karo jis tarah Muhammad (صلى الله عليه وسلم) ke as'haab ne tasdeeq ki, ki beshak wo nabi aur rasool hein aur jo unki taraf nazil hua haq he. 

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ

( to kehte hein kya hum bewaqoofo ki tarah imaan layein) yani (kya hum) as'haab e Muhammad (صلى الله عليه وسلم) ( ki trh imaan layein) 

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ

(Sun lo! Beshak wahi bewaqoof hein) yani jahil hein. 

وَ لٰـكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ 

(magar wo nahi jante) yani aql nahi rakhte. (Fathul Qadeer, Durrul Mansoor) 


وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّاۚۖ-وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْۙ-اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ(14)


    Aur jab ye imaan walo se milte hein to kehte hein, hum imaan la chuke hein aur jab apne shetano ke pas akele me jate hein to kehte hein ki hum tumhare sath hein, hum to bas hansi (mazaq) karte hein. 


     Hazrat ibn e Masood is qoul 

وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْۙ(jb wo apne shetano k sath akele hote he) 

ke bare me farmate hein(yaha shayateen se murad) ; kafiro ke ameero se he. (ibn e Kathir, ibn e Jozi, Durrul Mansoor) 

    Yani shayateen se kafiro ke ameer log murad hein. Hazrat ibn e Abbas ne isse yahood ke sardaro ko tabeer kiya. 


    Imam Bedhawi farmate hein

 اِنَّا مَعَكُمْۙ

(Hum tumhare sath hein) yani deen aur aqeede me. 

  Unhone yani munafiqin ne musalmano ko khitab kiya (hum imaan laye) aur shayateen yani kuffar se kaha (beshak hum tumhare sath hein) isliye ki pehle jumle se unhone imaan lane ka sirf daawa kiya tha aur dusre jumle me is bat ko sabit kiya he jis par wo haqiqat me the. (Talkhees Bedhawi) 


اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(15)

Allah unki hansi mazaq ka unhe badla dega aur wo unhe mohlat de rha he ki ye apni sarkashi me bhatakte rahein. 


    

Hazrat ibn e Abbas, Allah rabbulizzat ke is qoul 

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ 

ke bare me farmate hein ki Allah unhe sazaa par majboor karta he. (ibn e abi Hatim) 

Pichli aayat e kareema me zikr kiya gaya munafiqeen kehte hein ki

 اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ 

(Hum to mazaq karne wale hein) to Allah rabbul izzat ne unke is qoul ke rad me farmaya 

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ 

(Allah unse istihza farmata he)

Allah ne

 اَللّٰهُ مُسْتَهْزِئُ بِهِمْ 

(Allah ne istihza ki) nahi farmaya, iski wajah imam Razi bayan karte hein ki "aisa isliye he ki us (Allah) ki istihza har haal me badalti rehti he aur waqt ke sath nayi hoti rehti he to isi tarah unke liye Allah rabbul aalameen ka azaab he, jesa ki Allah ne farmaya, "kya wo nahi dekhte ki saal me ek ya do bar unhe azmaish me mubtila kiya jata he. " (126 :التوبة) (Talkhees : Razi)

    Imam Nasafi farmate hein beshak Allah rabb e qadeer ki istihza bahut baleegh (asar andaz) he wo unki istihza ki misl nahi he jesa ki usne in munafiqeen ke upar azaab e zillat aur ruswaayi nazil ki. 

    Hazrat ibn e Abbas is quol k bare me frmate he

فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ  

yani wo apne kufr me bhatakte rahe. (ibn e Kathir, Tabri, Durrul Mansoor, ibn e abi Hatim) 

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى۪-فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ(16)


    Yahi hein wo log jinhone hidayat  ke badle gumrahi khareedi to unki tijarat ne koi faida nhi diya aur ye log raah jante hi nahi the. 

Tarteeb:

     Jinke bare me surat ul fatiha me farmaya tha ki hume gumrahi wale raaste se bachaa. 

     Hazrat ibn Masood farmate hein ki unhone gumrahi ko le liya aur hidayat ko tark kar diya. (Durrul Mansoor, ibn e Kathir, Tabri) 

    Hazrat qataada is 

فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ  

ke bare me farmate hein : Allah ki qasam tumne unhe dekha ki wo hidayat se gumrahi ki taraf, jama'at se firqe ki taraf, aman se khof ki taraf aur sunnat se bid'at ki taraf nikle to isi ko farmaya ki unki tijarat ne unhe koi faida nahi diya aur wo hidayat pane walo me se nahi the. (ibn e abi Hatim, Fathul Qadeer, ibn e Kathir, Tabri, Durrul Mansoor)

Thursday, 5 January 2023

Surah albaqarah ayat 8 to 12

 

بسم الله الرحمن الرحيم
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَﭥ(8)
Aur kuch log kehte hein hum Allah par akhirat par eeman le aaye halanki wo eeman wale nahi hein.
Hazrat Abdurrazzaq ne Hazrat Qatada se takhreej ki Allah rabbulizzat ke is qoul ke baare me "وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ yahan tak ke is aayat par pahunche وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ farmaya ye munafiqeen ke baare me he". (Tabri, DurrulMansoor) 

  Imam mujahid farmate hein, "beshak Allah ne pehli 4 aayato me momineen ka zikr kiya fir agli 2 aayato me kaafiro ka zikr kiya fir 13 aayato me munafiqeen ka zikr kiya aur ye is par daleel he ke munafiq sabse zyada jurm wale hein. "
    Is hadith ko imam Nasafi, Qurtbi aur Tabri ne bhi bayan kiya
  
  :  Tarteeb
       Imam Bedhawi farmate hein, "jab Allah ne kitab ke haal ki tashreeh ko shuru kiya aur uske bayan ke baad momineen ka zikr kiya jinhone Allah ke liye apne deen ko khalis kar diya aur unke dil unki zabaano ke mutabiq rahe, uske baad unke opposite logo ka zikr kiya, jinhone zahiri aur baatini tor par kufr kiya aur unhone iski taraf(jo Allah ki taraf se nazil hua) bilkul iltifat nahi kiya fir teesri qism bayan ki, jo in dono ke darmiyan muzabzab he, ye wo log hein jo apni zabaano se imaan laye aur unke dil imaan nahi laaye
   Isi tarah imam Nasafi aur Razi ne bayan kiya

    Yaani Allah rabbul aalamin ne pehle kitab ke maqsad ko wazih kiya ke ye kitab kitab e hidayat he uske baad is hidayat ke mutabiq insano ki aqsam ko bayan kiya ke wo 3 qism ki hein, first wo jo Allah ki nazil ki hui har baat par imaan laye aur imaan dil ki kaifiyat he aur usi ka izhaar unhone zabaan se kiya, dusre wo jinhone sire se inkar kar diya yaani kufr kiya aur teesre logo ki jab sifat bayan ki to ye nahi kha ke wo imaan laye balki farmaya wo log apni zabaan se kehte hein ki  hum imaan laye aur isse unka kya maqsad he agli ayat me bayan farmaya.

    یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَﭤ(9)

    Ye log Allah ko aur imaan walo ko dhoka dena chahte hein halanki ye sirf apne aap ko dhoka de rahe hein halanki inhe shaoor (aqal) nahi
     

Ibn e abi Hatim aur ibn e Jurej ne takhreej ki is qoul  یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ (Allah ko dhoka dene) ke baare me farmaya wo لااله الا الله (yani imaan) ka izhar karte hein aur unka irada hota he ke unki jaane aur unke maal mahfooz rahe aur unke dilo me iske alawa he (yani wo musalmano ke samne eemaan ka izhar isliye karte hein k unke jaan o maal jihad me musalmano se mehfooz reh sakein) . (Durrul Mansoor)
    
  Allah ko dhoka dene se kiya murad he yaha kayi mufassireen ne ek hi baat kahi
  
Imam Razi farmate hein Zajjaj ne kaha, "beshak wo log Allah ke nabi ko dhoka de rhe the to Allah ne apne nabi ko apna qaim maqam banaya jis tarah is aayat me he
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ
  Wo jo tumhari bait karte hein wo to Allah hi se bait krte hein. (صلى الله عليه وسلم)
     Isko imam Nasafi, Bedhawi aur ibn e Jozi ne bhi bayan kiya
    Ab munafiqeen ki batni or zahiri sifat bayan ki
فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ-فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(10)
Unke dilo me bimari he aur Allah ne unki bimari aur badhayi aur unke liye dardnaak azab he badla unke jhoot ka
Abd ibn e Humed aur ibn e Jareer ne hazrat Qatada se takhreej ki فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ (unke dilo me bimari he) is qoul ke baare me farmaya ye Allah ke Muamle me shak o shubah he فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ (to Allah ne unki bimari or badhayi) farmaya, shak aur shubah (yani marz se shak murad he)
وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ
(unke liye dardnak azab he badla unke jhoot ka) farmaya jhoot se bacho beshak ye nifaq se he aur khuda ki qasam hamne koi amal jo bande ke dil ke fasad me zyada ho jhoot aur takabbur se badh kar nahi dekha. (Durrul Mansoor)

    Isi tarah imam Mujahid, Hasan, Ikrima rabii bin Anas aur Abdullah ibn e Abbas se alag alag tafaseer me riwayat naqal he
     
Imam Nasafi farmate hein, mareez zindagi aur maut ke darmiyan mutaraddid rehta he isliye ke marz sehat ke opposite he aur fasaad sehat ka muqabil he to marz har fasaad ka naam he aur shak aur nifaq ye dil ka fasaad he
      Jo insaan ke dil me hota he wo isi ke mutabiq amal karta he
    وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(11) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰـكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(12)
Aur jab inse kaha jaye fasaad na karo to kehte hein hum to sirf islaah karne wale hein.Sun lo, wahi fasaadi hein magar unhe sha'oor nahi

Hazrat abil alia is quol
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ
(jb inse kaha jaye zameen par fasad na karo) k bare me farmate hein yani zameen par maasiyat (gunah) mat karo aur unka fasaad Allah ki nafrmani tha isliye k jisne zameen par Allah ki nafrmani ki ya uski nafrmani ka hukm diya usne zameen me fasaad kiya isliye k zameen aur asmaan ki islah ita'at(farmabardari) me he. (Ibn Abi hatim)
Imam Tabri ne rabii bin anas se yahi hadith bayan ki
   Ibn e Ishaq o ibn e Jareer aur ibn e Abi Hatim ne hazrat Abdullah ibn e Abbas se takhreej ki is qoul ke baare me  اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ yaani hum to dono giroho momineen aur ahl e kitab me sulah karana chahte hein.(Durrul Mansoor)
     Is hadith ko ibn e Kathir, Tabri aur Fathul Qadeer ne bhi bayan kiya
      Munafiqeen ki jo sifat quran e karim ne byan ki wo ye k wo zabaan se eemaan ka dawa karte hein aur unke dilo me shak he aur isi shak ki buniyad par wo eemaan aur kufr k bare me tazabzub ka shikar hein aur dono fareeq ko ek karne ki koshish karte hein. Aaj bhi aapko  kuch aise log mil jayenge jo kuffar se bada dili lagao rakhte hein aur eemaan ke dawedar hein halanki nabi e kareemصلى الله عليه وسلم ne farmaya, teen khaslate jisme ho usne eemaan ki mithaas ko pa lia wo ye ki uske nazdeek Allah aur uska Rasool her cheez se zyada mehboob hon wo kisi shakhs se Allah hi ke liye muhabbat kare aur ye ki wo kufr ki taraf lotne ko is tarah napasand kare jis tarah aag me dale jane ko napasand karta he. (bukhari)
     
     Abu jafar ne kaha "Allah taala ne yahood se dushmani ko aur unke sath musalmano ki jang ko farz kiya aur unke upar Rasoolallah صلى الله عليه وسلم aur jo aap Allah ki taraf se lekar aye us ki tasdeeq ko lazim kiya jis tarah momineen par is cheez ko lazim kiya to unka yahood se muhabbat rakhte huye mulaqat karna aur Rasoolallah صلى الله عليه وسلم ki nubuwwat me aur jo unki taraf nazil hua shak karna sabse bada fasaad he agarche ye unke nazdeek unke deen me ya momineen aur kafiro ke beech hidayat aur islah ho to Allah rabbulizzat ne farmaya;
  اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰـكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
sun lo beshak yahi log fasaad phelane wale hein lekin unhe iska sha'oor 

nahi. (Talkhees, Tabri)


Unka zameen pr fasad kya tha jis trh hmne upr hadith byan ki usi ki taeed agli ayat e karima krti he

                         Continue.... 

Friday, 18 November 2022

Surah al baqarah ayat 6&7

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

  اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(6)


Beshak wo log jinhone kufr kiya unke liye barabar he aap unhe darayein ya na darayein ye imaan nahi layenge. 


     Jab apne aulia ka zikr un khoobiyon se kar diya jo uski taraf qareeb karne wali hein aur ye bayan farma diya ki kitab unke liye hidayat he to uske  baad unke mukhalifeen (against) ka zikr kiya aur wo sarkash dhutkaare huye wo log hein jinko hidayat faida nhi degi. (nasafi) 

Hazrat Abdullah bin Amr se farmate hein arz kiya gaya ya Rasoolallah صلی اللہ علیہ وسلم  hum quran padhte hein to hamein bahut ummeed ho jati he aur kabhi hum quran padhte hein to qareeb hota he ki hum mayoos ho jayein. Huzoor صلى الله عليه وسلم ne farmaya, kya me tum ko jannat walo aur jahannam walo ki khabar na du arz ki kyu nahi ya Rasoolallah صلی اللہ علیہ وسلم to huzoor ne الٓمّٓ se الْمُفْلِحُوْنَ tak padha aur farmaya ye jannati hein. Sahaba ne kaha, ham iski ummeed lagate hein ki hum unme se ho fir farmaya  اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا se  عَظِیْمٌ tak ye jahannami hein to humne (sahaba) kaha hum unme se nahi hein ya Rasoolallah صلی اللہ علیہ وسلم to farmaya, haan.(Tafseer Ibn e Abi Hatim, Durr ul Mansoor) 



Hazrat ibn e Ishaq, ibn e Jurej aur ibn e abi Hatim ne Hazrat ibn e Abbas se takhreej ki, 

                    " اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا jinhone kufr kiya yani بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ jo aap par nazil hua agarche wo kahein ki jo isse pehle aaya hum us par imaan laye hein un par barabar he tum unko darao ya na darao wo imaan lane wale nahi kyunki unhone jo aapka unke paas zikr he iska inkaar kiya aur use to goya unhone jo cheez aap lekar aaye hein usko jhutla diya aur usko jo unke paas he jisko aapke alawa dusre ambiya lekar aaye to wo aap ki janib se darana kahan sunenge jabki wo kufr kar chuke usse jo unke paas aapke baare me ilm he. 

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘

To unke dilo par aur unke kaano par muhar he aur unki aankho par parde hein Yani hidayat se ki wo us hidayat ko kabhi bhi nahi pehchanenge bagair is haq ke jisko aap laaye hein aur uski wajah se ye aapko jhutla rahe hein yhan tak ki wo us par imaan le aayein agarche aap se pehle jo kuch he us sab par imaan le aayein aur inke  liye jo inhone aap ke khilaf kiya azab e azeem he aur ye ulama e yahood ke baare me he. "(Durr ul Mansoor, ibn e Kathir) 

  Tafseer Ibn e abi Hatim aur Fathul Qadeer me bhi is riwayat ka kuch hissa bayan kiya. 

               Imam Bedhawi farmate hein"  سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ  khabar he اِنَّ ki "  isi tarah Imam Nasafi ne farmaya. 

        Yani jin logo ne ay habeeb us cheez ka inkar kiya jo aap par nazil hua aur aap se pehle nazil hua unke liye barabr he ki aap unhe darayein ya na darayein wo eemaan nhi layenge kyu nhi layenge agli ayat dekhein.


خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(7) 


Imam mujahid farmate hein"خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ mujhe khabar di gayi ki gunah dil par hote hein aur usko charo taraf se gher lete hein yahan tak ki us par chipat jate hein aur unka us par chipat jana yahi الطبع he aur isi الطبع ko khatam yani muhar kehte hein. (Tabri, ibn e abi Hatim) 


    Is aayat ke baare me Hazrat Qatada ne farmaya "shaitan un par ghalib aa gaya jab unhone uski itaa'at ki to Allah ne unke dilo par aur kaano par muhar kar di to wo na hidayat ko dekhte hein na sunte hein na samajhte hein. (Fathul Qadeer, ibn e Kathir, ibn e abi Hatim)


      Imam Bedhawi farmate hein" 

    لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ

ye waeed he aur iska bayan jiske wo mustahiq (ahl) hein. (Tafsser e Bedhawi) 


To ye hein wo gazab yafta log jin ka zikr surah al fatiha me tha. Surah al fatiha me iske bad behke huye logo ka zikr he jiski wazahat surah al baqarah ki agli ayat me he. 

       Continue....

Saturday, 29 October 2022

Surah albaqarah ayat 3,4,5


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ   یُنْفِقُوْنَ.    

Wo log jo bager dekhe imaan late he or namaz qaim karte he or hamare diye hue rizq me se hamari rah me kharch karte he


           Tarteeb

Hazrat qatada هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ Ke bare me farmate he unki khoobi or unka wasf y he الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ yani wo log jo gaib pr iman late he الایة. (durr e mansoor)
        Imam aaloosi, imam razi, imam nasafi or imam shokani ne bhi is ayat k bare me yhi bayan kia k ye mittaqin ke wasf he.
      Yani is ayat me muttaqin ki tafseer h k muttaqiin kon log he.
Hazrat ibn e abbas gaib k bare me frmate he "jo us yani Allah ki trf se aya" tabri
    Isse wazih hua k gaib ka mani agli ayat me he.
 وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ. بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ(4)

Or wo imaan late he us par jo tum par nazil kia gya or jo tumse pehle nazil kya gaya  or akhirat pr yaqeen rkhte he.

     Hazrat Abdullah ibn e masood or bahut s sahaba e kiram se riwayat he"الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ ye arab k momineen he. 
(وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ(الآية ye ahle kitab k momineen he. Fir inhe dono ko jama kia اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ. (durr ul mansoor, fathul qadir, ibn e kathir)
       Imam tabri  farmate he ki ahle arab ke pas isse phle koi kitab nahi thi jo Allah ne hazrat Muhammad صلى الله عليه وسلم pr nazil ki jis ki tasdeeq krk wo uska iqrar krte or uspr amal karte, kitab ahle kitab k pas thi. (tabri)
    Eeman bil gaib ke bare me mufassirin ke do quol he pehla to ye k wo ahl e arab k momineen he jinpr koi kitab nazil nhi hui thi or wo Allah pr eeman rkhte the example huzoor صلى الله عليه وسلم k waliden, Dusra quol ye he ki wo huzoor صلى الله عليه وسلم pr eeman rakhne wale wo momineen he jo huzoor صلى الله عليه وسلم k bad ay or unhone apko nhi dkha is quol ki support m mufassireen ne ky riwayat naql ki h jo ap tafaseer m dkh skte he hm yha srf do riwayat is quol ki taeed me pesh krnge.
     Ibne abi sheba ne aouf bin malik se takhreej ki k Rasool Allah صلی اللہ علیہ وسلم ne farmaya "kash me apne bhaiio se mulaqat karta" unhone (sahaba) kaha "kya ham apke bhai or ashab nahi" farmaya "kyu nhi, lekin tumhare bad ek qom aygi jo mjh pr tumhari tarah eeman layegi, meri tumhari tarah tasdeeq karegi tumhari tarah meri madad karegi kash me apne un bhaiyo se mulaqat karta." (durr ul mansoor)
    Ibn e asakir ne hazrat anas se takhreej ki Rasool Allah صلی اللہ علیہ وسلم ne farmaya "kash me apne bhaiyo se milta" to sahaba e kiram me se ek shakhs ne kaha "kya hum apke bhai nhi he" frmaya "kyu nhi, tum mere sahabi ho or mere bhai wo log he jo mere bad ayenge or mujh pr iman layenge halanki unhone mjhe nhi dekha fir tilawat ki" الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ  " (durrul mansoor)
     Isi se milti julti kayi riwayat mukhtalif tafaseer me ibn e kathir, imam ibne jozi, or imam jalal uddin suyuti ne durrul mansoor me kayi turuq se byan ki.

    Is riwayat ko mene isliye bayan kiya ki isk bad Rasool Allah صلی اللہ علیہ وسلم ne ayat tilawat farmayi.
     Ye imaan bil gaib ke bare me mufassireen ke aqwal he upar ki riwayat me arab ke momineen ka zikr he jisse wazih hua ke isme wo sab log conclude he jin pr Allah ki taraf se kuch nazil nhi hua or wo Allah pr imaan rakhte the.
    Allah rabbul izzat ne aage farmaya.

         اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ  وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(5)

     Yahi log apne rab ki taraf se hidayat par he or yahi log kamyabi hasil karne wale he.

Hazrat ibn e abbas farmate he اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ  yani apne rab ki taraf se noor or  jo unki taraf aya uski istiqamat par he. (tafseer ibn e abi hatim, ibn e jozi, ibn e kathir, tabri)
      Istiqamat yani kisi cheez par jam jana or usse na hatna, jis tarah surah al fatiha me bhi sirat e mustaqeem ki taraf hidayat ki dua ki gayi he to yaha ye wazih ho gya ki us seedhi rah par kon log qaim he.
       Imam tabri is ayat ke bare me likhte he.  "isse pata chala ki ye log khas ahle hidayat or falah (kamyabi) se he na ki inke alawa balke inke alawa jo log he wo gumrahi or nuqsan wale he. (tabri)

     Aage farmaya اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
Yani ye log kamyab he or kamyabi ke bad hi inaam milta he to surah al fatiha me jin inaam yafta logo ka zikr tha ye uski tafseer thi uske bad gazab yafta logo ka zikr he jiski wazahat isse agli ayat me he.
       Continue....
               


 
       


       )   

Monday, 26 September 2022

Surah al baqarah ayat 1-2

 

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الٓمّٓ(1


Imam ibne jozi farmate he mufassireen ne الٓمّٓ   Ke baare me kai baatein bayan ki he jisme se ek ye he" ke ye mutashabihat me se he jis ke haqiqi maani Allah ke siwa koi nahi janta"(tafseer ibne jozi)
    Surah Al fatiha me kitab ke maqsad ko bayan kia gaya  jis ka mani itna zahir he ke bachcha bhi samajh sakta he lekin surah Al baqarah ko aise huroof se shuru kia gaya jis ke maani ko samajhne se bade ulama ki aqle bhi heran he. (naeemi).

Hazrat Abu bakr siddiq se riwayat he "har kitab ke kuch raaz hote he or quran ke raaz surato ke shuru me aane wale words he."( tafseer e aaloosi wa ibn e jozi)
   Isi tarah imam tabri or imam jalaluddin suyuti ne dawud ibne hind se riwayat bayan ki. (tabri, durr e mansoor)

     Or quran e hakeem me he :
وَ  مَا  كَانَ  اللّٰهُ  لِیُطْلِعَكُمْ  عَلَى  الْغَیْبِ  وَ  لٰكِنَّ  اللّٰهَ  یَجْتَبِیْ  مِنْ  رُّسُلِهٖ  مَنْ  یَّشَآءُ   ۪-  فَاٰمِنُوْا  بِاللّٰهِ  وَ  رُسُلِهٖۚ-وَ  اِنْ  تُؤْمِنُوْا  وَ  تَتَّقُوْا  فَلَكُمْ  اَجْرٌ  عَظِیْمٌ.
Or Allah ki ye shaan nahi ke aey logo  tumhe gaib ka ilm dede haan Allah chun leta he apne rasoolo me se jise chahta he to iman lao Allah or uske rasoolo par or agar iman lao or parhezgari ikhtiyar kro to tumhare liye bada sawab he. (aal e imran:179)
  
Ab ham  apne asal topic tarteeb e quran par aate he..
     To yaqeenan aapne isse pehle surah al fatiha ko padha he jisme sabse pehle Allah ki shaan bayan ki gyi fir Allah ki rahmat ka zikr hua or uske baad uski badai bayan ki gyi ab aap surah Al baqarah ki taraf aate he to isko الٓمّٓ   Se shuru kia gaya he jiske haqiqi meaning Allah hi behtar janta he lekin mufassireen ne iski kai taweelat bayan ki he jisme se ek  quote mujhe surah Al fatiha se linked mila jo pesh e khidmat he. 


Hazrat Abil Aalia or rabii bin Anas se riwayat he"alif se murad Allah he, laam se murad latif he or meem se murad majeed he. "(durr e mansoor, tabri, ibn jozi)

Explanation : Pehli ayat me Allah ki shan bayan hui. 

     Lateef (bahut zyada lutf karne wala) lutf  aam zaban me ek andar se milne wali khushi he jo Allah ki rahmat ka nateeja he. 

           Majeed : buzurgi yani badai wala to wo akhirat ke din ka malik he jis din saare badshaho ki badshahate khatam ho jayegi or wo badi shaan se farmayega "aaj kiski badshahat he". Surah :momin vs:16)

      

     To whi Allah ibadat ke laiq he.

   
       ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْب  فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ(2)

Wo buland rutba kitab jisme kisi shak ki gunjaish nahi, isme darne walo ke liye hidayat he.

    Imam aaloosi bayan karte he ke sab se anokhi baat jo mene dekhi ke surah Al fatiha me sirat e mustaqeem ki taraf ishara he goya ke logo ne hidayat ka sawal kia to unse kaha gaya ke jis raste ki taraf tum hidayat ke talabgar ho  wo kitab he. (tafseer e aloosi)

     Hazrat qatada مُتَّقِیْنَ k bare me farmate he"wo momineen he jin ki tarif Allah ne agli ayat me bayan ki الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ. (tafseer e ibn kathir wa ibn abi hatim)
       
        Surah al fatiha me aage teen qism k logo ka zikr he 1)inaam yafta log jo muttaqiin yani momineen he ab surah al baqarah me bayan hoga k un inaam yafta logo ki kya khoobia he.
                                    Continue....